انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 136

۱۳۶ ہے۔اور یہ سب باتیں اس انتظام میں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جو اب تجویز کیا گیا ہے۔اور اگر اس سے اعلیٰ کوئی انتظام ہو تو اس میں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔پس میں نے آپ لوگوں کو اس لئے جمع کیا ہے کہ میں ان ذمہ داریوں کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلاؤں جو سلسلہ احمدیہ کے بانی اور اسلام کے لانے والے خاتم النّبیّن ﷺکی طرف سے تم پر عائد ہوتی ہیں۔کیونکہ ان کے بغیر نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ کام چل سکتا ہے۔جب میں ولایت سے آیا تھا اور کارکنوں نے مجھے ایڈریس دیا تھا تو اس کے جواب میں میں نے کہا تھا کوئی کامیابی کی ایک شخص کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں ان سب لوگوں کی کوشش شامل ہوتی ہے جو خفیف سے خفیف خدمت بھی کرتے ہیں۔اور گو سہرا کسی ایک کے سر بندھ جاتا ہے لیکن در اصل کامیابی سب کی ملی جلی ہوتی ہے۔آج میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ناکامیوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔وہ بھی ایک کی نہیں ہوتیں بلکہ سب کا ان میں دخل ہوتا ہے۔پس اگر کارکن ہی نہیں بلکہ تمام ممبر بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں اور ایک دوسرے سے تعاون کا عہد نہ کریں تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔اس وقت تک طریق عمل میں جو نقص معلوم ہوئے ہیں انہیں ہم نے دور کر دیا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان نقائص کو دور کرنے کی وجہ سے کامیاب ہو جائے گی۔کامیابی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک تمام کے تمام مل کر کوشش نہ کریں اور ایک دوسرے سے تعاون نہ کریں۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہمارا مقابلہ ساری دنیا سے ہے اور ہمارے اسباب بہت ہی محدود ہیں۔میں تو اپنی جماعت کی موجودہ حالت کی مثال اُحد کے مردوں سے دیا کرتا ہوں جن کے کفن کے لئے کپڑانہ تھا۔اگر ان کے سر ڈھانپے جاتے تو پاوں ننگے ہو جاتے ۱؎ اور اگر پاؤں ڈھانپے جاتے توسرننگے ہو جاتے۔یہی حال ہمارا ہے ہم ایک کام کی طرف توجہ کرتے ہیں تو اسباب کی کمی کی وجہ سے دوسری طرف نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ایسے حالات میں ہمارا مقابلہ ایسے دشمن سے سینکڑوں سالوں سے اپنی تنظیم کر چلا آرہا ہے آسان نہیں ہے۔ہم تو دیکھتے ہیں ہندوؤں کا مقابلہ بھی آسان نہیں ہے جو سینکڑوں سال مسلمانوں کےماتحت رہے۔گو چند سال سے تعلیم میں مسلمانوں سے بڑھ گئے ہیں۔ان کی تنظیم ایسی اعلیٰ ہے کہ مسلمان دیکھتے ہیں پِسے جارہے ہیں مگر مقابلہ نہیں کر سکتے۔اٹھتے ہیں مگر پِٹ کر بیٹھ جاتے ہیں۔میں اپنی جماعت کو ہی انتظامی لحاظ سے بہت پیچھے دیکھتا ہوں۔یہاں کے لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو تکلیفیں دیں، سلسلہ کو نقصان پہنچایا اور اب بھی اس کوشش میں لگے رہتے ہیں اس کے