انوارالعلوم (جلد 9) — Page 130
۱۳۰ مجلس کا کام چلے اور اس کی آمدنی بڑھے۔پس اس طرح طاقت بڑھنے کی بجائے کمزور ہوتی تھی۔پھر اسی طرح ایک ہلکی سی رقابت بھی دونوں صیغوں میں پیدا ہو گئی اور اس کی آواز بھی برابر میرے کانوں میں پڑتی رہی۔کبھی تو یہ کہ مجلس معتمدین والے یوں کام کرتے ہیں جس سے یہ نقصان ہوا ہے اور کبھی یہ کہ نظارت والے ہیں کام کراتے ہیں جس سے فلاں نقصان ہوا ہے۔یوں تو ایک ہی صیغہ میں دو کام کرنے والوں میں بھی رقابت ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول جو ہمارے دو بازو ہیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ رقابت پائی جاتی ہے۔لیکن جب یہ رقابت حد سے بڑھ جائے تو نقصان رساں ہوتی ہے اور دونوں فریق سے تعلق رکھنے والے کی حالت اور بھی مشکل ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام سنایا کرتے تھے۔ہماری مثال اس عورت کی سی ہے جس کی ایک بیٹی کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری مالیوں کے ہاں۔جب کبھی بادل آتا تو وہ عورت دیوانہ وار گھبرائی ہوئی پھرتی۔لوگ کہتے اسے کیا ہو گیا ہے۔اس کی زبان پر یہ ہوتا ایک بیٹی ہے نہیں اگر بارش ہو گئی تو جو کمہاروں کے ہاں ہے وہ نہیں۔اور نہ ہوئی تو جو مالیوں کے گھر ہے وہ نہیں۔کیونکہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ترکاریاں نہ ہوں گی اور اگر ہو گئی تو کمہاروں کے برتن خراب ہو جائیں گے یہی حالت اس شخص کی ہوتی ہے جس نے دو ایسے فریق سے کام لینا ہو جن کی آپس میں رقابت ہو۔ان صیغوں میں رقابت گو ایسی نمایاں نہ تھی مگر اس کے احساسات ضرور تھے۔بعض ایسے لوگوں کے منہ سے جو ذمہ دار کہلاتے ہیں اور میں تو سب کو ذمہ دار سمجھتا ہوں۔مگر ایک اصطلاع بن گئی ہے۔انہوں نے الزام تو نہیں لگایا کہ آپ یوں کرتے ہیں۔مگر یہ کہا کہ نظارت کے معاملات آپ کے سامنے ایسے رنگ میں پیش ہوتے ہیں کہ دہ آپ کی توجہ زیادہ لے جاتے ہیں اور ہم محروم رہ جاتے ہیں۔میں یہ بحث نہیں کرتا کہ ان کا یہ خیال ٹھیک تھا یا نہیں۔اور نہ مجھ میں یہ بحث کرنے کی قابلیت ہے۔کیونکہ ایسی باتیں بہت باریک احساسات سے مستنبط ہوتی ہیں۔مگر ایسی باتیں میرے کانوں تک ضرور پہنچتی تھیں۔اس وجہ سے نہ صرف دونوں صیغوں میں کشش ہوتی تھی۔بلکہ جس طرح دو بد خُو بیویوں والے خاوند کی شامت آجاتی ہے اسی طرح میری حالت ہوتی تھی۔اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ ان دونوں صیغوں کو ملا دیا جائے۔پھر ایک اور نقص تھا اور وہ وقت کا ضائع ہونا تھا۔دونوں صیغوں میں کام کرنے والے چونکہ عموماً ایک ہی تھے۔وہی ناظر تھے وہی مجلس معتمدین کے ممبراس لئے کبھی نظارت انہیں اپنی طرف کھینچتی اور کبھی مجلس اور اس طرح بہت سا وقت ضائع ہو جاتا۔میرے نزدیک ۲۵ فیصدی سے لے کر پچاس فیصدی تک ایک جگہ کام کرنے کی بجائے دو جگہ کام کرنے سے فرق پڑ جاتا ہے پھر دو جگہ کام ہونے کی وجہ سے