انوارالعلوم (جلد 9) — Page 76
۷۶ حج بیت الله او رفتنہ حجاز ۱۹۱۲ء میں حج کے لئے گیا ہوں اس وقت ترکی حکومت تھی میں بعض وہابیوں سے ملا تھا وہ لوگ سخت تنگ تھے اپنے عقیدہ کا اظہار تک نہیں کر سکتے تھے۔ایک بڑے عالم نے جو سب مکہ میں عالم مشہور تھا بتایا کہ وہ دراصل وہابی ہے مگر ظاہر اپنے آپ کو حنبلی کرتا ہے کیونکہ دفعہ اسے وہابیت کے الزام میں قید کر دیا گیا تھا۔معلوم ہوا کہ سب وہابی اپنے آپ کو اس زمانہ میں حنبلی کہتے تھے کیونکہ حنبلیوں کی فقہ اہل حدیث سے قریب ترین ہے اور اس وجہ سے وہ اس نام کے نیچے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہیں۔وہ لوگ الگ الگ نماز پڑھ لیتے تھے جماعت کرانے کی اجازت نہ تھی۔دوسروں کے پیچھے نماز پڑھنے کو ناپسند کرتے تھے۔جماعت کے وقت اِدھر اُدھر ہو جاتے جب لوگ نماز پڑھ لیتے تو وہ اکیلے اکیلے خانہ کعبہ میں نماز پڑھ لیتے یا گھروں پر پڑھ لیتے۔اگر کسی کی نسبت شبہ ہو جائے کہ وہ وہابی ہے تو اس کی جان کی خبر نہ ہوتی تھی کیونکہ حکومت تو بعد میں دخل دیتی عوام الناس ہی اس کو اپنے قدموں میں روند ڈالتے۔میں نے دیکھا کہ یہ لوگ سُنّی علماء کی نسبت زیادہ عالم اور زیادہ ہوشیار تھے اور اچھے بارسوخ تھے۔شریف حسین کے لڑکوں کے اتالیق جو ایک نہایت ہی سمجھدار اور لا ئق آدمی تھے اوراحمدیت کے بہت ہی قریب تھے گو انہوں نے اظہار نہیں کیا مگر میں سمجھتا ہوں وہ بھی وہابی تھے کیونکہ ان کو قریباً سب مسائل میں وہائیوں سے اتفاق تھا۔خود کہتے تھے کہ مکہ میں انسان اپنے عقیدہ کو ظاہر کر کے نہیں رہ سکتا۔ان صاحب کو میں نے سب مکہ کے علماء میں سے زیادہ سمجھدار اور وسیع الوصلہ دیکھا۔مجھے نصیحت کرنے لگے کہ میرے جیسے لوگوں کو آپ احمدیت کی تبلیغ کر یں دوسرے علماء کے پاس نہ جاویں ورنہ فساد ہو جائے گا۔میں نے کہا اگر حق سنانے میں کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کچھ ڈر نہیں، بہت متاثر ہوئے اور کیا ایمان کی علامت تو یہی ہے۔لفظ و ہابی بطور گالی غرض تر کی حکومت میں بھی وہابیوں کو مکہ میں آزادی نہ تھی وہابی کا لفظ بطور گالی کے مکہ میں استعمال ہوتا تھا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کو کتّا کہہ دینے سے وہ اس قدر بُرا نہ مناتا ہو گا جس قدر کہ وہابی کہہ دینے سے۔جب شریف حسین نے آزادی اختیار کی تو ان کے زمانہ میں بھی سنا ہے کہ یہ ظلم بر قرار رہا بلکہ ابن سعود نے حج کی اجازت اپنی قوم کے لئے طلب بھی کی تو ان کو اجازت نہ دی گئی۔اور کیا تعجب ہے کہ شریفی خاندان کی موجود ہ تباہی اسی ظلم کے سبب سے ہو۔