انوارالعلوم (جلد 9) — Page 75
۷۵ حج بیت الله او رفتنہ حجاز حکومت سے ملا لیا اور نجد کو تر کی حکومت کا ایک صوبہ قرار دیا۔۱۸۹۱ ء میں حکومت ابن سعود نے یہ دیکھ کر کہ این رشید کی طاقت بہت بڑھ گئی ہے ، مشرقی ریاستوں سے سمجھوتہ کر کے ایک مشترکہ حملہ اس پر کیا۔مگر سب نے شکست کھائی اور محمد ابن رشید اس وقت کا امیر سب نجد کا بادشاہ ہو گیا۔اور اس طرح ترکوں کی حکومت نجد پر اور بھی مضبوط ہوگئی۔کیونکہ ترک ابن رشید کے ساتھ اور ابن سعود کے مخالف تھے-۱۹۰۴ء تک برابر ا بن رشید کا غلبہ رہا۔مگر ۱۹۰۴ء شیخِ کویت جو انگریزی حکومت کے ماتحت تھا اس نے ابن سعود اور بعض اور قبائل سے مل کر ابن رشید پر حملہ کیا اور اس کو شکست دیتے دیتے اس کے دارالامارة تک لے گئے۔ترکوں نے ابن رشید کی مدد کے لئے فوج بھیجی جو بغیر جنگ کئے صلح کر کے واپس لوٹ گئی۔مگر اس دن سے وہابی طاقت پھر بڑھنے لگی۔حتیّٰ کہ جنگ عظیم کے زمانہ میں ان کی طاقت بہت ہی ترقی کر گئی۔ابن سعود اور شریف مکہ کی حالت مندرجہ بالا حالات سے ہے اور بخوبی روشن ہو جاتے ہیں کہ (۱) مو جو دہ جنگ ِحجاز کوئی نئی جنگ نہیں بلکہ یہ ایک ڈیڑھ سو سالہ پرانا قصہ ہے۔اور سُنیوں وہابیوں کی جنگ ہے۔پچھلے ڈیڑھ سو سال میں قریباً بغیر وقفے کے وہابیوں نے سب عرب پر قبضہ کرنے کی کو شش کی ہے۔مگر سُنیوں نے ان کا مقابلہ کیا ہے۔کبھی عرب قبائل ان کی طرف سے لڑے ہیں کبھی مصری کبھی ترک - (۲) دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابن سعود کی حکومت ہمیشہ ہی پچھلے ڈیڑھ سو سال میں ترکوں کے مخالف رہی ہے اور ان سے جنگ کرتی رہی ہے۔(۳) تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابن سعوداسی جُرم کے مرتکب ہیں جس کے مرتکب شریف مکہ ہوئے ہیں۔یعنی وہ بھی غیر مسلم حکومتوں کی مددسے ترکوں سے لڑ چکے ہیں بلکہ پچھلے چند سال تک بھی وہ انگریزوں سے روپیہ لیتے رہے ہیں۔سُنیوں کا تشد د وہابیوں پر ٍ اس تاریخ کو بیان کرنے کے بعد اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس جنگ کا اثر سیاسی اور مذہبی طور پر عرب پر کیا پڑے گا۔پہلے تو میں سیاسی اثر کر لیتا ہوں جیسا کہ اوپر کے واقعات سے ظاہر ہے۔یہ جنگ سُنّی وہابی کا جھگڑا ہے۔سُنّی ہمیشہ اپنی کثرت کے گھمنڈ پر مقامات مقدسہ کے قبضہ کے دعویٰ کرتے رہے ہیں۔اور وہابی اس امر کے مدعی رہے ہیں کہ تم لوگوں نے ان مقامات کو نجس کر دیا ہے اس لئے تمہارا ان پر کوئی حق نہیں۔ترکی حکومت کے زمانہ میں بھی وہابیوں کو مکہ میں آزادی نہ تھی۔جب میں