انوارالعلوم (جلد 9) — Page 62
انوار العلوم جلد 9 ۶۲ حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز ۳۔ مگر سب سے اہم سوال رابغ تک پہنچنے کا ہے۔ قوانین ڈول کے مطابق ہر بادشاہ اپنے ساحل کے تین میل کے اندر سمندر کا مالک سمجھا جاتا ہے۔ اور کھلے سمندر میں بھی ہر بادشاہ کا جو دوسرے بادشاہ سے لڑائی کر رہا ہو حق ہے کہ اس کے ملک میں جانے والے غلہ اور ان اشیاء کو لوٹ لے جو جنگ میں کام آتی ہیں۔ چونکہ شریف علی کے پاس جنگی بیڑا ہے اور امیرا بن سعود کے پاس نہیں ہے اس لئے امیر ابن سعود تو حاجیوں کے جہازوں کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ مگر شریف علی ہر اس جہاز کو جس کی منزل مقصود امیر ابن سعود کا علاقہ ہو ، لوٹ سکتے ہیں اور پکڑ سکتے ہیں۔ چونکہ شریف علی کی کامیابی کا انحصار ہی اس امر پر ہے کہ امیرا بن سعود کو غلہ نہ پہنچے ۔ اس لئے وہ پورا زور لگائیں گے کہ حاجیوں کے جہاز جو کئی ہزار ٹن غلہ بھی لے جا رہے ہیں منزل مقصود تک نہ پہنچ سکیں اور راستہ میں ہی پکڑ لئے جاویں۔ اس سے ایک تو امیر ابن سعود کو نقصان ہو پہنچے گا دوسرے غلہ کی بہتات کی وجہ سے شریف علی کی طاقت بڑھ جائے گی۔ پس اندریں حالات شریف علی حتی المقدور حاجیوں کو رابغ نہیں پہنچنے دیں گے اور راستہ میں ہی گرفتار کر کے جدہ لے جانے کی کوشش کریں گے اور یہ کام ان کے لئے بہت آسان ہے ۔ اگر رابغ پر کھڑے ہوئے جہاز کو بھی وہ جنگی جہاز کے ذریعہ سے گرفتار کرنے کی کوشش کریں تو امیر بن سعود بوجہ جنگی بیڑا نہ رکھنے کے کچھ نہیں کر سکتے اور اس امر میں شریف علی بالکل قوانین ڈولی کے دائرہ کے اندر کام کر رہے ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حاجیوں کے اُتر جانے کے بعد جہاز پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ایسا ہوا تو حاجی خوراک سے بالکل محروم رہ جائیں گے۔ شریف علی کو یہ بھی تقویت حاصل ہے کہ بوجہ ان خبروں کے کہ امیر ابن سعود اور شیخ سنوسی کا آپس میں کوئی سمجھوتہ ہوا ہے اٹلی کا میلان ان کی طرف ہے اور اٹلی کا علاقہ مسووا رابغ کے مقابلہ پر ہے اور وہاں اٹلی کے ساحلی جہاز ملک کی حفاظت کے لئے رہتے ہیں ۔ یہ جہاز بغیر اس امر کے ظاہر ہونے دینے کے کہ وہ شریف علی کی حمایت کر رہے ہیں بحیرہ احمر میں سے گزرنے والے ان جہازوں کی خبر رکھ سکتے ہیں جو رابغ جا رہے ہوں۔ اور وقت پر تشریف علی کو اطلاع دے سکتے ہیں۔ اٹلی آگے بھی کافی ذخیرہ سامان حرب کا حجازی حکومت کو دے چکا ہے ۔ ان حالات میں حاجیوں کے جہازوں کی حالت بہت خطرہ میں ہو گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان حالات میں جہازوں کا پہنچنا نا ممکن ہے۔ نہایت زبردست بیٹوں کی موجودگی اور تجربہ کار بحری کمانڈروں کی موجودگی میں بھی بعض جہاز دھوکا دے کر نکل جاتے ہیں۔