انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 61

۶۱ مکہ مکرمہ سے پانچ منزل پر واقع ہے- اور معمولی حالات میں مکہ سے رابغ تک انسان پانچ دن میں پہنچ جاتا ہے۔رابغ اور دو اور بندر اس وقت امیرابن سعود کے قبضہ میں ہیں۔اور اس وجہ سے تحریک کی جارہی ہے کہ حاجیوں کے جماز اگر اس بند ر پر جاویں تو آسانی سے مکہ پہنچ سکتے ہیں۔مگر اس خیال کے لوگوں کی نظروں سے چند امور پوشیدہ ہیں۔۱- رابغ گو پر انا بند رہے لیکن بڑے جہازوں کے ٹھہرنے کے قابل نہیں۔کیونکہ وہاں عام طور پر بڑے جہاز نہیں ٹھہرتے اور خصوصاً چو نکہ وہ اب مکہ کا بندر نہیں ہے اس لئے وہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان کی منزلیں غیر آباد ہو چکی ہیں۔پس نہ تو رابغ میں حاجیوں کے آرام کے لئے کافی جگہ مل سکتی ہے اور نہ راستہ کی منزلوں میں ان کے ٹھہرنے کی کوئی مناسب صورت ہو سکتی ہے۔مزید برآں عرب میں سب سے اہم سوال کھانے پینے کا ہوتا ہے اور پانچ منزلوں پر کافی ذخیرہ کھانے پینے کامہیا کردینا ایک بہت بڑا کام ہے۔امیرا بن سعود نے انتظام کا وعدہ کیا ہے مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ امیر ابن سعودجنگی آدمی ہیں۔اور عرب کے باشندے ہیں۔وہ انتظام کے جو معنے سمجھتے ہیں وہ بالکل اور ہیں۔ایک عرب سپاہی کھجور کی گٹُھلیاں کھا کر یا درختوں کی چھال کھا کر کئی دن گذارا کر لیتا ہے۔اور پانی کا ایک گھونٹ اس کی تشنگی کے بجھانے کے لئے کافی ہوتا ہے یہ چیزیں ہندوستانی آدمیوں کے لئے گذارہ نہیں کہلا سکتیں۔اور خصوصا ًعورتوں بچوں کے لئے تو ایسے حالات میں یقینی تباہی ہے۔وہ جو کچھ بھی انتظام کریں گے اس میں ہندوستانی طریق رہائش کالحاظ نہیں رکھا جا سکتا۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہوٹلوں اور اعلیٰ قہوه خانوں کا انتظام نہیں کر سکتے۔کیونکہ یہ انتظام تو پہلے بھی نہ تھا۔میرا مطلب انتظام سے یہ ہے کہ پینے کو پانی مل جائے اور کھانے کو غلہ اور کافی اونٹ ہوں۔جن پر لوگ سوار ہو کر مکہ پہنچ سکیں۔میرا جہاں تک خیال ہے امیرابن سعود کے لئے باوجود اس کے کہ ان کی کامیابی اس سال کے حج کی کامیابی پر منحصر ہے ،یہ انتظام بھی مشکل ہو گا۔۲ - دو سری دقّت یہ ہے کہ رابغ گوا میرا بن سعود کے قبضہ میں ہے مگر اس کا راستہ ساحل کے کنارے کنارے مکہ کی طرف جاتا ہے اور یہ علاقہ شریف علی کے قبضہ میں ہے۔چونکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں شریف علی کو حاجیوں کے مکہ پہنچنے میں سخت نقصان کا اندیشہ ہے اس لئے وہ بھی آسانی سے ان قافلوں کو گذرنے نہیں دیں گے۔اور ضرور ہے کہ اگر خود مصلحتاًحاجیوں کے قافلوں پر دست درازی نہ کریں تو اردگرد کے قبائل کو اُکسا کر ان سے حملہ کروا دیں اور حاجیوں کو مال اور جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔