انوارالعلوم (جلد 9) — Page 60
۶۰ کے لئے جن کو بحری سفر کے ذریعہ سے مکہ مکرمہ تک پہنچنا پڑا ہے اس سال حج ضروری نہیں ہے بلکہ اس کا ملتوی کرنا بہتر ہے۔انسان غیب کے حالات کو نہیں جانتا اور ہم نہیں کہہ سکتے کل کیا ہو۔مگر فیصلہ موجودہ حالات پر لگایا جاتا ہے اور وہ حاجیوں کے لئے مخدوش ہیں۔میری رائے کی بنیاد مندرجہ ذیل امور پر ہے۔ان دنوں امیر ابن سعود اور شریف علی والی حجاز کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔اور باوجود کوشش کے فریقین نے جنگ کو ملتوی کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔اس لئے بالکل ممکن ہے کہ حاجیوں کو لڑائی کے قدرتی نقصانات برداشت کرنے پڑیں۔او روہی مثل صادق آئے کہ"جوگی جوگی لڑیں اور کھپروں کا نقصان " دوجنگو مسلح ایک دوسرے کو فنا کردینے کا ارادہ کرنے والی قوموں کے درمیان ایک غیرمسلح بے بس جماعت کا آجانا جن خطرات کا موجب ہو سکتا ہے ان کا قیاس کر لینا کچھ مشکل نہیں اور ان کی موجودگی میں حج کا ارادہ کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔موجودہ حالت حجاز کی یہ ہے کہ امیر ابن سعود امیر نجد اس وقت مکہ مکرمہ پر قابض ہیں۔شریف علی ملک الحجاز جدہ اور ساحل سمندر کے اکثر علاقہ پر قابض ہیں۔امیر ابن سعود کی فوجوں نے جدہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔اور ان کی پوری کوشش اس امر میں خرچ ہو رہی ہے کہ شریف علی کا تعلق عرب کی ان جنگجو قوموں سے نہ ہو جو اندرون عرب میں بستی ہیں تاکہ وہ اپنی فوجی طاقت کو بڑھا سکیں۔شریف علی ایک قلیل فوج کے ساتھ جس کے افسراکثر شامی لوگ ہیں جو قدیم ترکی فوج کے بقیہ ہیں اور انہوں نے ترکی کالجوں میں فنون حرب سیکھے ہوئے ہیں فوج کا ایک حصہ بھی شامی لوگوں پر مشتمل ہے۔اور باقی حجازی قبائل کے لوگ ہیں۔جدہ اور اس کے گردو نواح میں اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ غلہ جو حجاز کو سمندر کی جانب سے آیا کرتا ہے مکہ مکرمہ اور پاس کے علاقہ میں نہ پہنچنے دیں تا کہ امیر نجد تنگ آکر محاصرہ اٹھائیں اور لوگوں میں بھی فاقوں کی وجہ سے امیر نجد کی حکومت کے خلاف بے اطمینانی پیدا ہو جائے اور وہ ان کو چھوڑ کر شریف علی سے مل جاویں، چونکہ حج کا مروّجہ راستہ جدہ میں سے ہو کر گزرا ہے۔اس لئے اس راستہ سے ہو کر حج کو جانا تو بالکل نا ممکن ہے۔مگر اس راستہ کے سوا کچھ اور راستے بھی ہیں۔جن میں سے ایک رابغ ہے جو مکہ مکرمہ کی قدیم بندر گاہ ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اسی بندر (بندرگاہ )سے مکہ کے لوگ پار کے ممالک کی طرف جاتے تھے۔اور صحابہ کرام ہجرت حبشہ کے وقت اسی بند ر سے ابی سینیایا بعض لوگوں کے نزدیک یمن کی طرف ہجرت کر کے گئے تھے، یہ بندر