انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 54

انوار العلوم جلد و ولد جماعت احمد یہ کے عقائد آنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ دین اور مذہب کامل ہو چکا ہے اب اس قسم کے مامور کی ضرورت نہیں جو امت محمدیہ سے نہ ہو۔ پھر ہمیں ان لوگوں سے یہ بھی اختلاف ہے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں مامور کے ضرورت صلح آنے کی غرض محض شریعت کالا نہیں ہوتا بلہ جیسا کہ تایا گیاہے کلام الہی کی صحیح تفسیر اور یقین اور وثوق کا پیدا کرنا ہوتا ہے اور اپنے نمونہ سے لوگوں کی اصلاح کرنا اس کا کام ہوتا ہے۔ شریعت کے حاصل ہو جانے سے یہ ضرورت پوری نہیں ہو جاتی۔ صرف اس صورت میں رسول کریم ال کے بعد ہر قسم کے مامور کی ضرورت باطل ہو سکتی ہے جبکہ امت محمدیہ " میں کسی قسم کا فساد پیدا ہی نہ ہو تا لیکن ذرا بھی کوئی شخص آنکھ کھول کر دیکھے تو چاروں طرف اس کو فساد ہی فساد نظر آئے گا۔ پھر کیسے تعجب بلکہ حماقت کی بات ہے کہ لوگ کہتے ہیں رسول کریم کے بعد بیماری تو ہو تو ہو گی لیکن آپ کے بعد کوئی طبیب نہیں ہو گا۔ اگر بیماری ہو گی تو طبیب بھی ضرور ہو گا۔ اگر طبیب نہیں آتا تو بیماری بھی نہیں ہونی چاہئے ۔ مگر مسلمانوں کی مذہبی اخلاقی اور روحانی کمزوری تو اب اندھوں کو بھی نظر آرہی ہے۔ پھر ہمارا ان لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ ہم یقین رکھتے ہیں قرآن معارف قرآن کریم شریف اپنے معارف اور مطالب ہمیشہ ظاہر کرتا رہتا ہے مگر ہمارے مخالف یہ کہتے ہیں کہ سب معارف پچھلے لوگوں پر ختم ہو گئے اب یہ کلام نَعُوذُ بِاللهِ ایسی ہڈی کی طرح ہے جس سے سارا گوشت نوچ لیا گیا ہو ۔ تعجب ہے دنیا کے پردے پر تو نئے علوم نکلیں مگر خدا کے کلام سے کوئی نیا نکتہ نہ نکلے ۔ پھر ہمارا یہ اختلاف ہے کہ ہم لوگ اس بات پر یقین اور وثوق خدا تعالیٰ دعائیں سنتا ہے رکھتے ہیں کہ اللہ تعالٰی مومنوں کی دعائیں سنتا ہے مگر یہ لوگ ان باتوں کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ پھر ہم لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان شرائط کے ساتھ اپنی قدرت کے نشانات نشانات اب بھی ظاہر کرتا ہے جو قرآن شا نشانات اب بھی ظاہر کرتا ہے جو قرآن شریف میں اس نے بتائی ہیں لیکن ہمارے مخالفین کے دو گروہ ہیں۔ ایک تو وہ ہے جو کہتا ہے کہ اس تعلیم کے زمانہ میں ایسی باتیں مت کرو۔ اور دوسرا گر وہ وہ ہے جو کہتا ہے خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی تبھی ہو سکتی ہے جب کہ وہ اپنے مقرر کردہ قوانین کو بھی توڑ دے اور اپنی سنت کے خلاف کرے۔ اس وجہ سے وہ ایسی باتیں دنیا میں