انوارالعلوم (جلد 9) — Page 51
۵۱ جاتا ہے جو کلام الہٰی کی صحیح تفسیر جو اس کو خدا تعالی کی طرف سے ملتی ہے لوگوں تک پہنچا دیتا ہے اور تازه نشانات کے ساتھ خدا تعالی کے جلوے کو ظاہر کرتا ہے جس سے وراثتی ایمان جو در حقیقت ایک کوڑی کے برابر حقیقت نہیں رکھتایقین اور وثوق کا مقام حاصل کرلیتا ہے۔انبیاء علیھم السلام کا آنا ہمارا یہ یقین ہے کہ امت کی اصلاح اور درستی کے لئے ہر ضرورت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء بھیجتا رہے گا۔اور ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ قرآن کریم اور احادیث میں اس زمانہ کی نسبت خصوصیت کے ساتھ یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ اس وقت جب کہ رسول کریم ﷺ کی تعلیم کو جو صفحات کاغذ پر تو موجو د ہوگی لیکن لوگوں کے قلوب پر سے مفقود ہو جائے گی اور بلحاظ ایمان اور یقین کے وہ ثریا پر چلی جاوے گی آپؐ ہی کی امت میں سے ایک ایسا شخص ظاہر ہو گا جو پھر قرآن کریم کی حقیقت لوگوں پر ظاہر کرے گا اور ان کے ایمانوں کو تازہ کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارا یہ یقین ہے کہ وہ شخص موعود ظاہر ہو چکا ہے او ران کا نام مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے۔ہم رسول کریم ﷺ کی بتائی ہوئی ہدایت اور آپؐ سے پہلے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق یہ یقین رکھتے ہیں کہ آپ مسیح موعود تھے جن کے ذریعہ خداتعالی عیسائیت کے فتنہ کو پاش پاش کرے گا۔اور آپ مہدی موعود تھے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اصلاح کرنی ہے اور آپ کرشن اور دوسرے بزرگ جو مختلف اقوام میں آئے ہیں ان کے مثیل نے جن ناموں کے ذریعہ آپ نے ان قوموں کو اسلام کی طرف لانا ہے آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تکمیل اشاعت کا کام کرتا ہے اوروہ کررہاہے۔مامور کا ماننا ہمارا یہ یقین ہے کہ جو شخص خدا تعالی کی طرف سے آتا ہے اس پر ایمان لانا اور اس کا ساتھ دینا اور اس کی جماعت میں داخل ہونا ضروری ہے ورنہ وہ غرض و غایت ہی مفقود ہو جاتی ہے جس کے لئے خدا تعالی کی طرف سے مامور آیا کرتے ہیں۔اگر خداتعالی کے مامور کی جماعت میں داخل ہونا ضروری نہ ہو تو جیسا قرآن سے ظاہر ہے کہ نبی کی مخالفت اس وقت کے بڑے لوگوں کی طرف سے ضروری ہے کسی کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ایک غیر ضروری کام کے لئے ساری دنیا کی مخالفت سہیڑے۔تبھی ایک جماعت اس مقصد کو لے کر کھڑی ہو سکتی ہے کہ وہ اس مامور کی تائید کرے گی اور اس کے کام کو دنیا میں پھیلائے گی جب کہ وہ سمجھتی ہو کہ