انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 49

انوار العلوم جلد 9 ۴۹ جماعت احمدیہ کے عقائد بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَيُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ جماعت احمدیہ کے عقائد رقم فرموده مئی ۱۹۲۵ء) ہمارے عقائد جن کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مختصر سا نقشہ ہمارے مذہب کا ذہن میں کھینچ سکتا ہے یہ ہے :- اللہ تعالی ہم اس بات پر یقین رکھتے ہی کہ اللہ تعلی ہے اور ایک ہے وہ ان تمام صفات سے متصف ہے جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں۔ ملائكة الله ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور انسانوں سے علیحدہ موجود ہیں۔ خیالی یا وہمی وجود نہیں ہیں بلکہ حقیقتاً وہ ایسی ہستیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مادی اسباب کی آخری کڑی کے طور پر مقرر فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالی کے احکام کے لئے عالم مخلوقات میں ایک ایسی حرکت پیدا کرتے ہیں جو مختلف مدارج طے کرنے کے بعد وہ نتائج پیدا کر دیتی ہیں جن کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہیں۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے کلام کلام الہی نازل کیا کرتا ہے۔ اور جب سے دنیا پیدا ہوتی ہے (جس کی حد بندی کرنے کی ہم کوئی وجہ نہیں پاتے خواہ لاکھوں اور کروڑوں خواہ اربوں سال ہوں) تبھی سے خدا تعالیٰ اپنے خاص خاص بندوں سے دنیا کی راہنمائی کے لئے کلام کرتا چلا آیا ہے ۔ اب بھی کرتا ہے اور آئندہ کرتا رہے گا۔ کریم ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ کلام الہی کئی اقسام کا ہے ۔ ایک قسم شریعت یعنی ایسا قرآن کریم کلام جو شریعت کا حامل ہوتا ہے اور ایک قسم تفسیر اور ہدایت ہوتی ہے ا ہے اور ایک قسم تغیر اور ہدایت ہوتی ہے یعنی کلا شریعت کی تفسیر اس کے ذریعہ سے کی جاتی ہے اور اس کے بچے معنے بتائے جاتے ہیں اور لوگوں