انوارالعلوم (جلد 9) — Page 42
انوار العلوم جلد ؟ ۲ حکومت کامل کی ظالمانہ کارروائیوں پر صبر و سکون سے کام لو محفوظ حصے میں ہی کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ ظالم ظلم کر کے پھر خودمنہ کے بل نہ گرا ہو ۔ صداقت ہمیشہ بلند ہی رہی ۔ اسی طرح اب بھی ظلم کا خمیازہ ظالم ہی کو اٹھانا پڑے گا اور صداقت ہمیشہ بڑھے گی۔ کسی کا اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈ میں کسی کو مار ڈالنا یا قتل کر دینا صداقت میں شک اور شبہات کا موجب نہیں بن سکتا اور نہ اس سے ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ ہمارا کیا حال اور انجام ہوگا۔ داقت اپنے آپ اپنی جڑ پکڑتی ہے کسی انسان کا انسان کی مدد کی وہ محتاج نہیں۔ - جو اپنے پاؤں پر آپ کھڑا ہونے والا ہو اس کو اس امر کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کوئی چھوٹی یا بڑی طاقت اس کی امداد میں کھڑی ہو ۔ مجھے اس بات کا خیال نہیں اور نہ ہمارے دلوں میں اس قسم کا خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ جس کام اور جس صداقت کے قیام کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے یا وہ لوگ جو احمدی اور حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے اور صداقت دنیا میں پھیلنے سے رک جائے گی۔ بلکہ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ امیر کی یہ بالکل بچوں کی سی حرکات ہیں جس طرح بچہ اسکول جانے سے انکار کرتا ہے اور باپ اس کو پکڑ کر اسکول لے جاتا ہے۔ کہیں وہ کاٹتا ہے اور کہیں وہ لاتیں مارتا ہے کہیں کپڑے پھاڑتا ہے یہی حالت حکومت کابل کی ہے وہ لاتیں مارتی اور ہمیں کاٹتی ہے مگر وہ اخلاقی سکول جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے ذریعہ کھولا گیا اس میں اس کو ضرور داخل ہونا پڑے گا۔ ماں باپ بچے کو اس کی لاتیں چلانے اور کاٹنے کی وجہ سے اس کو اسکول لے جانے سے باز نہیں رہتے اسی طرح ان کو بھی اس اخلاقی اسکول میں داخل ہونے کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو گا۔ یا ان کی مثال اس جانور کی ہے کہ جو دولتیاں چلاتا اور بسا اوقات لوگوں کو زخمی بھی کر دیتا ہے۔ لیکن کونسا جانور ہے جس نے آخر کار کان نیچے نہ ڈال دیتے ہوں اور پھر ادھر سے ادھر یکے نہ کھینچتے پھرتے ہوں۔ یا گورنمنٹ افغان کی مثال اس نئے بیل کی ہے جو گردن پر جوا رکھنے سے پہلو تہی کرتا اور دولتیاں چلاتا ہے ۔ مگر آخر اس کو جوئے کے نیچے گردن رکھنی پڑتی ہے۔ پہلے بھی آخر جوتے ہی گئے اور یہ بھی آخر جوتے ہی جائیں گے اور خدا کا کام ان کو بھی کرنا ہی پڑے گا۔ مگر مجھے جو خیال آتا ہے وہ یہ آتا ہے کہ ان کی ان بد بختیوں اور وحشیانہ حرکات اور بے وقوفیوں کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا ہو گا۔ مجھے جس وقت گورنمنٹ کابل کی اس ظالمانہ اور اخلاق سے بعید حرکت کی خبر ملی میں اس وقت بیت الدعا میں گیا اور دعا کی کہ الہی تو ان پر رحم کر اور ان کو ہدایت دے اور ان کی آنکھیں کھول تا وہ صداقت اور راستی کو