انوارالعلوم (جلد 9) — Page 639
۶۳۹ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ ونصلی على رسؤله الكريم ہندو مسلم اتحاد کے متعلق حضرت امام جماعت احمدیہ کی تجاویز مسلمانوں کے مذہبی و سیاسی حقوق کی حفاظت کا انتقام (تحریر فرموده یکم ستمبر ۱۹۲۷ء بمقام کنگز لے شملہ) (شملہ میں ۷ ستمبر ۱۹۲۷ء کو تمام فرقوں کے لیڈروں کی جو کانفرنس مسئلہ اتحاد کے متعلق غور و خوض کرنے کے لئے منعقد ہوئی اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔اس موقع پر اتحاد کے بارہ میں حضور نے جو بیس امور پیش فرمائے ان کا ترجمہ درج ذیل ہے۔) ۱۔ہر جماعت کو اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کی اور دوسروں کو اپنے مذہب میں داخل کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہئے لیکن ناجائز ذرائع نہیں استعمال کرنے چاہئیں۔۲- کسی جماعت کے مذہب یا بانی مذہب یا دوسرے پاکباز لوگوں کے متعلق جن کو کوئی فرقہ قابل تنظیم سمجھتا ہو، گندی اور معاندانہ تحریروں اور تقریروں کا سدّ باب ہو نا چاہئے اور کسی قوم کے مذہب پر کسی ایسے عقید ہ یا دستور کی بناء پر جس کو وہ قوم اپنے مذہب کا جزونہ سمجھتی ہو، کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔متعلقہ جماعتیں اس کے متعلق ذمہ دار سمجھی جائیں اور ایسا کرنے والے کا اس کی قوم کی طرف سے بائیکاٹ ہونا چاہئے یا کوئی دو سری مناسب سزا اس کو ملنی چاہئے حتی کہ دوائی قابل اعتراض تصنیف یا تحریر کو علانيہ تلف کر دے اور غیر مشروط معافی مانگے۔۳- پر قوم کو مکمل آزادی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے افراد کی اقتصادی اصلاح کر سکے اور کہ ان کو کاروبار کرنے یا دکانیں کھولنے کی ترغیب دے اور ان کی سر پرستی کی تحریک کرے۔یہ بات خصوصیت سے مسلمانوں کی حالت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ اس میدان میں بہت پیچھے ہیں اور اقتصادی آزادی کیلئے ان کا تجارت کی طرف متوجہ ہونا ضرور ی ہے۔