انوارالعلوم (جلد 9) — Page 31
انوارالعلوم جلد 9 ۳۱ من انصاری الی الله اسلام کو قبول کیا اور جس وقت تم اسلام کی مخالفت کر رہے تھے اس نے اسلام کی مدد کی اب تم اس کو کیوں دکھ دیتے ہوا، تو ان کے پہلے ایمان لانے اور قربانیوں کا اظہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ تکلیفیں حضرت عمر نے بھی اٹھائیں اور قربانیاں انہوں نے بھی کی تھیں۔ پس حضرت ابو بکر کو اس سبقت پر فخر حاصل تھا۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابو بکر یہ چاہتے ہوں گے کہ کاش ! فتح مکہ کے وقت ان کو ایمان لانے کا موقع ملتا بلکہ اگر دنیا کی بادشاہت کو بھی ان کے سامنے رکھ دیا جاتا تو حضرت ابو بکر اس کو نہایت حقیر بدلہ قرار دیتے اور منظور نہ کرتے بلکہ وہ اس مرتبہ کے معاوضہ میں دنیا کی بادشاہت کو پاؤں سے ٹھو کر مارنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کرتے۔ حالانکہ ان تکلیفوں سے طبعی طور سے مومن کو رنج بھی ہوتا ہے مگر ایمان کی وجہ سے اس تکلیف کو بھی وہ انعام سمجھتا ہے جیسا کہ کسی کا باپ شہید ہو جائے تو کچھ شک نہیں کہ اس کو طبعی طور پر اس کا رنج بھی ہو گا مگروہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس کے باپ کو شہادت کا مرتبہ کیوں ملا ۔ اگر بظاہر اس کو رنج پہنچتا ہے تو دل میں فرحت اور اطمینان بھی اس کو ہوتا ہے ۔ مومن کے اس رنج میں بھی ایک ایسی بار یک خوشی ہوتی ہے کہ دنیا کی کسی خوشی کو بھی وہ اس کے برابر قرار نہیں دے سکتا۔ پس اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سب سے پہلے قادیان کے احباب کو جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اور تمام رشتہ داریوں کو قطع کر کے قادیان میں ہجرت کر آئے ہیں اور ان کو جو دراصل اس بستی کے رہنے والے ہیں جو جو کہ خدا کے مسیح کی بہتی ہے اس فضیلت کی وجہ کی وجہ سے ان کو اس تحریک میں حصہ لینے کا حق دار کا حق دار سمجھتا ہوں تاکہ آپ دوسروں۔ پ دوسروں کے لئے نمونہ بنیں ۔ اور آپ کے نمونہ سے دوسروں کو اس تحریک میں شامل ہونے کا موقع حاصل ہو ۔ اب میں وہ اپیل پڑھ کر سناتا ہوں۔ الفضل ۱۷- فروری ۱۹۲۵ء)