انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 618

۶۱۸ توجہ دلاتا ہوں جو انہوں نے اپنے مضمون کے آخر میں لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ :۔’’گورنمنٹ کا فرض ہے کہ جن علاقوں سے ہندووں کو جلا وطن کیاگیا ہے۔ان علاقوں پر چڑھائی کر کے ان علاقوں کو انگریزی علاقہ کے ساتھ شامل کر لینا چاہئے۔" اس وقت جب کہ سرحد پر پہلے سے ہی جوش پھیلا ہوا ہے ، یہ الفاظ سوائے فساد کی آگ بھڑکانے کے اور کیا اثر کر سکتے ہیں۔افغان سرحد جو سینکڑوں سال سے اپنی آزادی کیلئے سربکف رہے ہیں اور گورنمنٹ برطانیہ نے کروڑوں روپیہ خرچ کر کے سرحد پر امن قائم کیا ہے اس تحر یر کا اثر سرحد کے افغانوں پر اور گورنمنٹ کی پالیسی پر کیا ہو گا۔کیا افغان اس تحریر کو دیکھ کر یہ نتیجہ نہ نکالیں گے کہ ہندو ہماری آزادی کو برباد کرنا چاہتے ہیں اور کیا ان کا جوش ان کے ہم مذہبوں کے خلاف آگے سے بھی تیز نہ ہو جائے گا اور کیا اس تحریر کے نتیجہ میں انگریزی سیاست کو جو نہایت قیمتی جانیں قربان کرنے اور کروڑوں روپیہ خرچ کے بعد وہاں قائم ہوتی ہے ، ایک زبردست ٹھیس نہ لگے گی۔میں ہندو صاحبان کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس قسم کے غیر ذمہ دار اشخاص کو روکیں کہ سارے فساد کے یہی بانی ہیں۔یہ لوگ موقع کی نزاکت اور کام کرنے والوں کی مشکلات کو نہیں دیکھتے اور نادان دوست کی طرح اپنی قوم کو فائدہ پہنچانے کی بجائے اس کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اور میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ نوجوانان سرحد اس موقع پر نہایت بُردباری سے کام لے رہے ہیں۔اور ہر اک معقول بات کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔پس ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس قسم کے فتنہ انگیز مضامین کی روک تھام کی جائے۔میں ہندو صاحبان سے یہ بھی خواہش کرتا ہوں کہ جس طرح وہ سرحد کے بھائیوں کی ہمدردی کی طرف متوجہ ہیں اسی طرح ده چمبہ اور دوسری ریاستوں میں جو مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، اس کی طرف بھی توجہ کریں اور اس ظلم کو جو کمزور مسلمانوں پر کیا جا رہا ہے دور کریں۔ورنہ ان کا کوئی حق نہیں کہ ابتداء خود کر کے اس کے انجام سے محفوظ رہنے کیلئے واویلا کریں- واخردعوانا ان الحمد للہ رب العلمین - خاکسار مرزا محموراحمد ۱۹۲۷ء۔۷۔۲۸ الفضل / اگست۱۹۴۷ء)