انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 615

انوار العلوم جلد ؟ ۶۱۵ سرحد سے ہندووں کا اخراج اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ - سرحد سے ہندؤوں کا اخراج ملاپ کی شرانگیز تحریر تحریر فرموده مؤرخہ ۲۸ جولائی ۱۹۲۷ء) سرحد کی خبر ہے کہ راجپال کی کتاب اور ورتمان کی تحریرات کی وجہ سے وہاں کے خواتین نے ان ہندؤوں کو جو تجارت کرتے تھے اپنے اپنے علاقہ سے نکل جانے کا حکم دیا ۔ دیا ہے۔ اس پر ملاپ کا ایڈیٹر نہایت سخت ناراض ہے۔ اور اس تمام فعل کا الزام خصوصیت سے میری تحریرات پر رکھتا ہے۔ اس امر میں ملاپ کے ایڈیٹر صاحب سے ہمدردی رکھتا ہوں۔ اور انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ان ہندؤوں کی حفاظت میں جو سرحد پر رہتے ہیں ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے اور در حقیقت ہم حیران ہیں کہ سرحد کے پُر جوش افغان جن کی تربیت پنجاب سے بالکل جدا گانہ ہے ، کس طرح اپنے جوشوں کو خلاف معمول دبائے ہوئے ہیں۔ ملاپ کے ایڈیٹر صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ سرحدی افغان اسلامی شعار کی اس قدر غیرت رکھتے ہیں کہ چند سال ہوئے ایک سپاہی نے ایک انگریز افسر کو صرف اس لئے مار دیا تھا کہ اس نے قبلہ کی طرف پاؤں کئے ہوئے تھے۔ ہم اس فعل کو خواہ احکام شریعت کے خلاف سمجھیں لیکن اس امر کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ ان کے نزدیک یہ امر شریعت کے مطابق تھا۔ پس اس قدر جلد ان لوں میں یہ تغیر پیدا ہو جانا کہ رسول کریم ملی الم کی ہتک کے موقع پر بجائے جوش میں آکر خون کرنے کے انہوں نے مہلت دے کر ہندو دکانداروں کو اپنی زمینوں سے چلے جانے کا حکم دیا، ایک بہت بڑی بات ہے اور گو میرے نزدیک ابھی انہیں اور ترقی کی ضرورت ہے۔ مگر یہ تبدیلی خوش کن تبدیلی ہے جس کے لئے میں خوانین سرحد کو مبارک باد دیتا ہوں۔ میں خوش ہوں کہ اس تبدیلی میں ہماری جماعت کا بھی حصہ ہے۔ کئی علاقوں کی نسبت جب معلوم ہوا کہ وہاں کے افغان جوش میں ہیں تو ہمارے آدمیوں نے انہیں سمجھایا کہ وہ اسلام کی عزت کے