انوارالعلوم (جلد 9) — Page 610
انوار العلوم جلد ؟ ۶١٠ اسلام کے غلبہ کیلئے ہماری جدوجہد دشمنان اسلام سے تعلق رکھتے ہیں یا سیاسی ہیں، ان میں اسلام ان میں اسلام کی تعریف یہی ہے کہ ہراک شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہے۔ دشمن بھی یہی تعریف اسلام کی سمجھتا ہے اور وہ اس تعریف کے مطابق ہم سے سلوک کرتا ہے۔ پس اس تعریف کے مطابق ہی ہمیں مشترکہ معاملات میں کام کرنا چاہئے۔ اور اپنی اپنی تعریفوں کو خالص مذہبی معاملات تک محدود رکھنا چاہئے کہ یہی ایک راہ صلح کی ہے۔ یاد رکھئے کہ کوئی ایک حصہ مسلمان کہلانے والوں کا اکیلا اس عظیم الشان کام کو نہیں کر سکتا جو ہمارے سامنے ہے۔ اور نہ کوئی ایک سوسائٹی جس کا دائرہ محدود ہو ، اس کام کو کر سکتی ہے۔ وہی کمیٹی اس عظیم الشان کام کو کر سکتی ہے جس میں سب فرقوں کے لوگ شامل ہوں اور جس کا دروازہ کامل طور پر سب مسلمان کہلانے والوں کے لئے کھلا ہو ۔ بے شک ہر مجلس یا کمیٹی کا حق ہے کہ وہ ایسا کام اپنے ذمہ لے جو اس کے دائرہ عمل کے اندر ہو۔ لیکن اس کام کو جو سب مسلمان کہلانیوالوں کے ساتھ وابستہ ہے اور امتیاز کی اجازت نہیں دیتا کسی ایسی کمیٹی کا اپنے ہاتھ میں لینا جس میں ہر اک فرقہ کو آزادی کے ساتھ شمولیت کا حق نہ ہو اور جو صرف چند آدمیوں کی رائے کے ماتحت سب لوگوں کو ملانا چاہے کبھی اور کبھی کامیابی تک نہیں پہنچا سکتا۔ پہلے اس قسم کے تدابیر سے اسلام کو نقصان پہنچ چکا ہے اور مسلمانوں کی تجارتیں تباہ ہو چکی ہیں ، کالج برباد ہو چکے ہیں ، ملازمتیں کھوئی گئی ہیں، زمینیں نیلام ہو چکی ہیں اور آئندہ اس قسم کی کوشش پھر مسلمانوں کو تباہ اور برباد کر دے گی۔ پس نا جائز جوش پیدا کر کے قوم کو تباہی کے رستہ پر ڈالنے اور الگ الگ جد وجہد کرنے کی بجائے ہر اک شہر اور قصبہ میں ایسی کمیٹیاں بننی چاہئیں جو تمام مسلمان کہلانے والے لوگوں پر مشتمل ہوں اور جو دلیری اور جرأت سے اسلامی حقوق کے لئے مناسب کوشش کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اور کام کا پروگرام ایسا بنایا جائے جس میں وہ مسلمان بھی شامل ہو سکیں جو کہ گورنمنٹ میں رسوخ رکھتے ہیں۔ کیونکہ اگر عمدگی سے ان سے کام لیا جائے تو یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی بہت کچھ مدد کر سکتے ہیں اور پچھلی ناکامیوں کا سبب ہی یہی تھا کہ کام ایسے رنگ میں شروع کیا گیا تھا کہ گورنمنٹ کے ملازم یا گورنمنٹ کے ساتھ رسوخ رکھنے والے لوگ مسلمانوں کی مدد نہیں کر سکتے تھے بلکہ انہیں ان کی مخالفت کرنی پڑتی تھی۔ اس طرح یہ نقص بھی تھا کہ طریق عمل ایسا چنا گیا تھا کہ بعض نهایت کار آمد اور زبردست سوسائیٹیاں اور جماعتیں اپنے مذہبی عقیدوں کی وجہ سے اس طریق عمل کو اختیار ہی نہیں کر سکی تھیں۔ پس اب پھر جو اللہ تعالی نے محض رحم فرما کر اتحاد کا