انوارالعلوم (جلد 9) — Page 601
انوار العلوم جلد ؟ ۶۰۱ اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ کسی امر میں ہے ہوں گے ان کے رشتہ دار یقینا قرض پر گزارہ کریں گے اور وہ قرض ہندو بنئے کے پاس سے انہیں ملے گا جس کی وجہ سے وہی لوگ جو اسلام کی مدد کیلئے نکلیں گے در حقیقت اسلام کو اور زیادہ کمزور کر دینے کے موجب ہو جائیں گے۔ یہ امر بھی نہیں بھلایا جا سکتا کہ عدم تعاون کے بعد سول نافرمانی ہونی چاہئے سول نافرمانی ہمیشہ عدم تعاون کے بعد ہوتی ہے۔ تعاون اور رسول نافرمانی کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ میں مسٹر گاندھی سے بہت اختلاف رکھتا ہوں لیکن ان کی یہ بات بالکل درست تھی کہ انہوں نے پہلے عدم تعاون جاری کیا اور اس کا دوسرا قدم رسول نافرمانی رکھا۔ ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ مدد نہ کرنے اور نافرمانی کرنے میں فرق ہے۔ مدد نہ کرنا ادنی درجہ کا انقطاع ہے اور نافرمانی اعلیٰ درجہ کا انقطاع ہے۔ اور یہ ممکن نہیں کہ ہم ادنی انقطاع کئے بغیر اعلیٰ انقطاع کر دیں ۔ جو لوگ سول نافرمانی کریں گے جب ان کو گورنمنٹ سزا دینے لگے گی تو کیا پچاس ساٹھ ہزار مسلمان جو سرکاری ملازمت میں ہے وہ سرکاری حکم کے ماتحت سول نافرمانی کرنے والوں کا مقابلہ کرے گا یا نہیں۔ اگر وہ مقابلہ نہیں کرے گا تو سب کو ملازمت چھوڑی پڑے گی اور عدم تعاون شدید صورت میں شروع ہو جائے گا اور میدان بالکل ہندؤوں کیلئے خالی رہ جائے گا اور اگر ملازم طبقہ رسول نافرمانی کرنے والوں کا مقابلہ کرے گا تو کیا یہ جنگ گھر میں ہی نہ شروع ہو جائے گی۔ پولیس فوج اور عدالتوں کے ملازم اگر خود مسلمانوں پر دست درازی کریں گے تو کیا آپس میں ایک دوسرے سے تنافر پیدا ہو گا یا نہیں۔ اور کیا ان چالیس پچاس ہزار ملازموں کے رشتہ دار جو چالیس پچاس لاکھ سے کم نہ ہوں گے، دو دوسرے لوگوں سے جو ان کو بُرا بھلا کہیں گے بر بر سر سر پیکار پیکار ہے ہوں گے یا نہیں۔ اور کیا اس کے نتیجہ میں ہر گاؤں اور ہر شہر میں مسلمانوں میں ایک خطرناک جنگ شروع ہو جائے گی کہ نہیں؟ غرض سول نافرمانی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک پہلے عدم تعاون نہ جاری کیا جائے۔ سول نافرمانی جاری کرنے سے پہلے سب مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ فوج سے پولیس اور ایگزیکٹو اور جوڈیشل غرض ہر قسم کی ملازمتوں سے علیحدہ ہو جائیں تاکہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑنا نہ پڑے۔ اور سب ملک کے مسلمان آپس میں دست و گریبان نہ ہو جائیں۔ لیکن کیا حالات اس بات کی اجازت دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو مسلمانوں کا اس میں فائدہ نہ ہو گا ہاں ہندؤوں کا فائدہ ہوگا۔ ایک مسلمان کی جگہ دس ہندو اور سکھ بھرتی ہونے کے لئے تیار ہوں