انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 586

۵۸۶ وسلم کی ہتک کی کسی کو جرأت نہ ہو۔اس عرصے میں ور تمان کے رسالے میں ایک مضمون شائع ہوا اور میں نے اس کی طرف ایک اشتہار کے ذریعہ سے توجہ دلائی اور گورنمنٹ نے اس رسالہ کو ضبط کرنے کے علاوہ اس کے ایڈیٹر اور مضمون نگار پر مقدمہ چلا دیا۔یہ مقدمہ اب ہائی کورٹ میں پیش ہے اور اس کے فیصلے پر یا تو قانون کی وہ تشریح قائم ہو جائے گی جو اب تک سمجھی جاتی رہی ہے۔یا پھر گورنمنٹ قانون کی کسی تشریح کر دے گی کہ آئندہ کسی جج کو اس قانون کے وہ معنے کرنے کا موقع نہ ملے جو کہ کنور دلیپ سنگھ صاحب نے کئے تھے۔میں نے قانون دان لوگوں سے معلوم کیا ہے کہ کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ کے مصنّف کے خلاف پریوی کونسل میں اپیل نہیں ہو سکتی۔کیونکہ پریوی کونسل یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ اس کے سامنے اپنے ہی مقدمات آنے چاہئیں جن میں کسی شخص کی بریت یا سزا کی تخفیف کی خواہش کی گئی ہو۔اور سزا کی زیادتی یا سزا دینے کے متعلق اپیلوں کو سننے کے لئے وہ تیار نہیں۔پس یہی راستہ گورنمنٹ کے لئے کھلا تھا وہ ایک نیا مقدمہ چلائے۔اور اس کا موقع اُسے ورتمان کے مضمون سے مل گیا ہے اور الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ موقع میرے ذریعہ سے بہم پہنچادیا۔ان حالات میں آپ لوگ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں ہماری تکلیف کا موجب گورنمنٹ نہیں کہ جیسا کہ گورنر صاحب صاف کہہ چکے ہیں گورنمنٹ اس معاملہ میں مسلمانوں کو مظلوم سمجھتی ہے اور ان سے ہمدردی رکھتی ہے لیکن وہ ہندو جو اس وقت فساد کے درپے ہیں چاہتے ہیں کہ کسی طرح گورنمنٹ سے ہمیں لڑا کر اپنا کام نکالیں اور گورنمنٹ کی نظروں میں مسلمانوں کو فسادی ثابت کر کے اس کی ہمدردی کو اپنے حق میں حاصل کر لیں۔اے بھائیو! آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر وہ اس کوشش میں کامیاب ہو جائیں تو اسلام کے لئے کس قدر مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔بے شک بعض لوگ کہہ دیں گے کہ ہم جانیں دے دیں گے۔مگر میں کہتا ہوں کہ گیا بے فائده جان دیدینے سے اسلام کا نفع ہو گایا نقصان؟ یقینا ًجس طرح موقع پر جان دینے سے گریز کرنے والا آدمی مجرم ہے اسی طرح وہ شخص بھی مجرم ہے جو بے موقع جان دے کر اسلام کی طاقت کو کمزور کرتا ہے۔ہر شخص جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے اسلام کی چھت کے نیچے کا ایک ستون ہے اور اس کا ٹوٹنا اسلام کے لئے مُضر۔پس ہر ایک شخص جو بے جا جوش میں آکر اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے اسلام کو نقصان پہنچانے والا ہے نہ کہ فائدہ پہنچانے والا۔پس میں خلوص دل اور گہری محبت کے جذبات سے متاثر ہو کر آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ یہی وقت اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کا ہے۔اسلام کی بات پر نظر کرتے ہوئے ، رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مسلمانوں کے فوائد کا خیال کرتے ہوئے