انوارالعلوم (جلد 9) — Page 584
۵۸۴ کتاب ”رنگیلا رسول" اور " و چتر جیون‘‘ سے یہ ہولی شروع ہوئی۔کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلے سے جرأت پا کر ورتمان نے اس ظلم کو اور بڑھایا۔اور اس کے بعد پے در پے پر تاپ اور ملاپ وغیرہ کے ایڈیٹروں نے اپنی دریدہ دہنی کا ثبوت دیا۔اس ناپاک حملے کے جواب میں مسلمانوں نے کیا کیا اور اس کا کیا بدلہ ملا وہ ظاہر ہے۔مسلم آؤٹ لک میں کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلے پر جرح کی گئی تو ایدیٹر اور مالک ہتک عدالت کے جُرم میں قید خانے میں ڈال دیئے گئے۔وہ ہندوستان کی سرزمین جس پر کل تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حکومت کر رہے تھے آج اس کی عزت کی حفاظت کرنے والے عدالت عالیہ کی ہتک کے مرتکب قرار پا کر قید خانے کی دیواروں کے پیچھے مجبوس ہیں۔یہ کیوں ہے؟ اسی لئے کہ مسلمانوں نے اپنے فرائض کو بھلا دیا اور اپنی ذمہ داریوں کو پس پُشت ڈال دیا۔خدا تعالی ظالم نہیں۔وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسھم ۱؎ اللہ تعالیٰ یقیناً کسی قوم سے اس کی نعمتیں نہیں چھینتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو ان نعمتوں کے استحقاق سے محروم نہیں کر دیتی۔پس اے مسلمانو! اپنے حال پر غور کرو اور اپنی مشکلات پر نظر ڈالو۔ایک دن وہ تھا کہ خدا کی نصرت تم کو کرہ ارض کے کناروں تک لے جارہی تھی اور آج تم دوسری قوموں کا فٹ بال بن رہے ہو۔جسکاجی چاہتا ہے پیر مار کر تمہیں کہیں کا کہیں پھینک دیتا ہے۔ایک وقت وہ تھا کہ تمارے رحم پر تمام دُنیا تھی اور تم دنیا سے رحم کا سلوک کرتے تھے لیکن آج تم دنیا کے رحم پر ہو اور دنیا و تم سے رحم کا سلوک نہیں کرتی۔آہ! وہ دن کیا ہوۓ جب تم دنیا کے رکھوالے تھے اور کیا ہی اچھے رکھوالے تھے۔ہر قوم اور ملت کے بے کس تمہاری حفاظت میں آرام سے زندگی بسر کرتے تھے۔تمہارا نام انصاف کا ضامن تھا اور تمہاری آواز عدل کی کفیل۔مگر آج تم لاوارث اور بے یار و مدد گار ہو۔اپنی عزت کی حفاظت تو الگ رہی اس پاک ذات کی عزت کی حفاظت بھی تم سے ممکن نہیں جس پر تمہارے جسم کا ہر ذرہ فدا ہے اور جس کی جوتیوں کی خاک بننا بھی تمہارے لئے فخر کا موجب ہے۔آسمان تمہارے لئے تاریک ہے اور زمین تمہارے لئے تنگ ہے۔اے بھائیو! کیا کبھی آپ نے اس امر پر غور کیا کہ یہ سب کچھ مسلمانوں کی اپنی سستیوں اور غفلتوں کا نتیجہ ہے ورنہ خدا تعالی ہر گز ظالم نہیں۔یہ دن کبھی بھی نہ آتے اگر مسلمان اپنی سستیوں اور غفلتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہ کرتے اور اپنی اصلاح کی فکر کرتے۔لیکن اب بھی کچھ نہیں گیا۔اگر اب بھی آپ لوگ ہمت سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ سے صلح کر کے بجائے اس پر الزام لگانے کے اور یہ کہنے کے کہ اس نے ہمیں ذلیل کر دیا ہے اپنے عیب اور نقص کو محسوس کرنے لگیں اور اپنی سستیوں اور غفلتوں کو ترک کر دیں تو یقیناً یہ مصائب کا زمانہ بدل جائے گا اور