انوارالعلوم (جلد 9) — Page 583
انوار العلوم جلد 9 ۵۸۳ کیا آپ اسلام کی زندگی چاہتے ہیں ؟ أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ تُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ کیا آپ اسلام کی زندگی چاہتے ہیں ؟ ( رقم فرمودہ جولائی ۱۹۲۷ء ) جس سرعت سے ہندوستان میں حالات بدل رہے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آج مسلمانوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان سو بھی سکتا ہے لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اگر سونا بھی چاہیں تو ان کے لئے ناممکن ہے۔ خدا تعالیٰ کے فرشتے انہیں مار مار کر اٹھا رہے ہیں۔ اور انہوں نے سخت دل دشمن کو ان پر مسلط کر دیا ہے تاکہ وہ ان کی نیند کو ان پر حرام کر دے۔ اب اُن کے لئے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار کرنا لازمی ہے۔ یا تو بیدار ہو کر اپنی زندگی کو قائم رکھیں یا مرکز زمین کو اپنے وجود سے پاک کر دیں۔ سب درمیانی راہیں آج ان پر بند ہیں اور سب دوسرے دروازے آج ان کے لئے مقفل ہیں۔ کتاب در نگیلا رسول" کے فیصلے نے ہندوؤں میں سے ان لوگوں کو جو بزرگان دین کی ہتک میں لذت محسوس کرتے ہیں اور خدا کے پیاروں کو گالیاں دینا ان کی غذا ہے اس قدر دیر کر دیا ہے کہ وہ خدا کے برگزیدہ رسول اور نبیوں کے سردار اور پاکیزگی و طہارت کے مجسمہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فِدَاهُ أَبِی و امی پر ایک سے ایک بڑھ کر ناپاک حملے کر رہے ہیں اور ان کی فطرت اس غلاظت اور نجاست پر منہ مارنے سے کراہت نہیں کرتی۔ حالانکہ یہ ایسا گندہ فعل ہے کہ انسانیت اس کے خیال سے کانپتی ہے اور شرافت ایسے ذکر سے نفرت کرتی ہے۔ شریف الطبع لوگ تو معمولی آدمی کو گالیاں دینے بھی دریغ کرتے ہیں کجا یہ کہ اس قسم کے مصنف اس پا اس پاکباز کو گندے سے گندے الفاظ سے یاد کرتے ہے۔ ہیں جس پر طہارت کو فخر ہے اور پاکیزگی کو ناز۔