انوارالعلوم (جلد 9) — Page 579
انوار العلوم جلد ؟ ۵۷۹ ذہبی رواداری کی بے نظیر مثال ہمیں ہر ایک قربانی سے جس کی شریعت نے اجازت دی ہے دریغ نہیں ہو سکتا اور اس معاملہ میں ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ بغیر اس کے کہ خلیفہ وقت کے آ۔ منے جو ان کاموں کا ذمہ دار ہے معاملہ کو پیش کیا جائے ، آپ ہی آپ حقیقی یا خیالی مظالم کا بدلہ لینا شروع کر دیا جائے۔ اگر احمدیوں میں بھی اسی طرح ہوتا ہے تو پھر کسی خلیفہ کی ضرورت ہی کیا ہے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ گو بہت سے سکھ پچھلی شورش میں دھوکا کھا کر ظلم کرنے والوں کی حمایت میں کھڑے ہو گئے تھے لیکن بعض بڑے لیڈروں نے اس طریق کو ناپسند کیا ہے اور صاف کہہ دیا ہے کہ ہم ان لوگوں کی تائید میں جنہوں نے ظلم کیا ہے ، مسلمانوں سے لڑنے پر تیار نہیں ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ جلد یہ فریق دوسروں کی آواز کو دبادے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے مصنف اور لیکچرار آئندہ مجھے اس قسم کے اعلان کے شائع کرنے کا موقع نہ دیں گے۔ نہ صرف سکھوں کے متعلق بلکہ تمام دوسرے مذاہب کے متعلق بھی۔ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفة المسیح کنگز لے ۔ شملہ ۷-۷-۶۱۹۲۷ الفضل ۱۶ ستمبر ۱۹۲۷ء)