انوارالعلوم (جلد 9) — Page 573
۵۷۳ چھوت چھات کرتے ہیں۔اسی طرح یہ کہ وہ اپنی تمدنی اور اقتصادی زندگی کے لئے پوری سعی کریں گے، اپنے قومی حقوق کو قوانین حکومت کے ماتحت حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے، اسلای فوائد میں سب ملکر کام کریں گے اور اسی دن ہر مقام پر ایک مشترکہ انجمن بنائی جائے جو مشترکہ فوائد کے کام کو اپنے ہاتھ میں لے۔اسی طرح اس دن تمام لوگ مل کر گورنمنٹ سے درخواست کریں کہ ہائی کورٹ کی موجودہ صورت مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہے اور ان کی ہتک کا موجب۔پچپن فی صدی آبادی والی قوم کے کل دوجج ہیں اور ان میں سے ایک سروس سے لیا ہوا اور ایک صوبہ سے باہر سے لایا ہوا۔اس میں مسلمان اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔یہ سمجھنا کہ ہر شعبہ کے لئے مسلمان قابل سے قائل مل سکتے ہیں لیکن جج نہیں مل سکتاہماری سمجھ سے باہر ہے۔گورنمنٹ نے جو کچھ کیا انصاف ہی سے کیا ہو گا اگر ہمارے نزدیک اس معاملہ میں مسلمانوں کے حقوق پر کافی غور نہیں کیا گیا اور اس کا ازالہ جلد سے جلد ضروری ہے اور اس کے لئے ہم با ادب یہ درخواست کرتے ہیں کہ کم سے کم ایک مسلمان جج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے اور مقرر کیا جائے اور اسے نہ صرف مستقل کیا جائے بلکہ دوسرے ججوں سے اس طرح سینئر کیا جاۓ کہ سر شادی لال صاحب کے بعد وہی چیف جج ہو۔ایک محضر کی ضرورت اسی طرح ایک جلسہ میں حاضرین سے دستخط لے کر ایک منظر نامہ تیار کیا جائے کہ ہمارے نزدیک مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر اور مالک نے ہرگز عدالت عالیہ کی ہتک نہیں کی بلکہ جائزہ نکتہ چینی کی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے نزدیک طبعی تھی اس لئے ان کو آزاد کیا جائے اور جلد سے جلد کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلہ کو مسترد کراکے مسلمانوں کی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنی ٰ بے ادبی برداشت نہیں کر سکتے دلجوئی کی جائے۔کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کم سے کم پانچ چھ لاکھ مردو عورت کے دستخط یا انگوٹھے اس محضر نامہ پر ہوں تاکہ نہ صرف ہندوستان بلکہ اس کے باہر بھی اس کا اثر ہو۔اور اس کا ایک طبعی اثر مسلمانوں کے دماغوں پر ایسا پڑے کہ دوسرے امور میں جدوجہد بھی ان کے لئے آسان ہو جائے۔یہ محضرنامہ ابھی سے تیار ہونا شروع ہو جانا چاہئے۔اس سے لوگوں کو کام کرنے کا موقع بھی مل جائے گا اور لوگوں پر اثر بھی اچھا ہو گا۔میرے نزدیک ایک ماہ بعد کی تاریخ رکھتی اس لئے مناسب ہے کہ تا اس عرصہ میں تمام ملک کو اس غرض کے لئے بیدار کیا جا سکے۔جلسہ جمعہ کی نماز کے بعد آسان ہو گا۔لیکن جس جگہ قانوناً