انوارالعلوم (جلد 9) — Page 568
انوار العلوم جلد 9 ۵۶۸ رسول کریم کی عزت کا تحفظ اور ہمارا فرض اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصاً گالیاں دینے کی جرأت ہندوؤں کو صرف ان کے اقتصادی اور تمدنی غلبہ کی وجہ سے ہے۔ وہ اس غلبہ کے بعد ہماری غیرت کو مٹا کر ہمیں شودر بنانا چاہتے ہیں۔ میں ان پر اعتراض نہیں کرتا۔ ہر ایک قوم کا حق ہے کہ اپنے مفاد کے لئے ہر ممکن جدوجہد کرے لیکن ساتھ ہی ہر اس قوم کا بھی جس کے مفاد کے خلاف اس کے کاموں کا اثر پڑتا ہو حق ہے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کرے۔ اگر ہندوؤں کا حق ہے کہ وہ اپنی دولت کو بڑھانے کے لئے مسلمانوں سے چھوت چھات کریں اور اپنی قوم کی ہر ممکن ذریعہ سے پرورش کریں تو کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہ ہو۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ ہندو خود چھوت چھات کرتے ہیں اور سنگھٹن کی تائید میں لیکچر دیتے پھرتے ہیں۔ لیکن جس وقت مسلمان وہی کام کرتے ہیں تو شور مچا دیتے ہیں کہ دیکھو یہ ملک کے امن کو بگاڑتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک ہر کوشش جو مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے کی جائے وہ ملک کے امن کے خلاف ہے۔ مگر ہم نے اس امن کو کیا کرنا ہے جس سے ہماری ہستی ہی مٹ جائے۔ اور پھر اس فساد کے ذمہ دار ہندو لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی بیداری کی وجہ سے پیدا ہو نہ کہ مسلمان۔ وہ شخص جو اپنے حقوق کی حفاظت کرتا ہے وہ کس طرح مفسد کہلا سکتا ہے۔ مفسد وہ ہو گا جو اسے اس کے جائز حق کے لینے سے روکتا ہے۔ اصل میں یہ شور ہی بتاتا ہے کہ ہندو قوم اس تدبیر سے سب سے زیادہ گھبراتی ہے۔ پس اس تدبیر پر ہمیں سب سے زیادہ زور دینا چاہئے۔ اور اس زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے سب سے پہلی جد وجہد ہماری یہی ہونی چاہئے کہ ہم ہندوؤں سے چھوت چھات کریں۔ مسلمانوں کا روپیہ آنحضرت صلی اللہ میں تمام ان مسلمانوں سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل میں رکھتے ہیں پوچھتا علیہ وسلم کے خلاف خرچ کیا جارہا ہے ہوں کہ کبھی اُنہوں نے یہ بھی خیال کیا ہے کہ رنگیلا رسول و چتر جیون اور ورتمان وغیرہ قسم کی کتب اور رسالے انہی کے روپیہ سے چھاپے جاتے ہیں اور انہی کے روپیہ سے ان کتب کے لکھنے والوں کی مدافعت کی جاتی ہے۔ اگر ان میں واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیرت ہے تو وہ کیوں وہ ہتھیار ہندوؤں کو مہیا کر کے دیتے ہیں جن سے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی تمدنی بربادی ہی ان سب خرابیوں کی ذمہ دار ہے اور اس کا