انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 566

انوار العلوم جلد 9 ۵۶۶ رسول کریم کی عزت کا تحفظ اور ہمارا فرض گھس جاتے تھے۔ اگر سرکار سب کو نہ پکڑتی تو گوردوارہ ہاتھ سے جاتا تھا۔ اگر پکڑتی تو جیل خانے کفایت نہ کرتے تھے۔ لیکن یہاں تو صرف بعض الفاظ کے دُہرانے کا سوال ہے۔ بغیر کسی قسم کے نقصان کے خطرہ کے ہائی کورٹ ہزاروں آدمیوں کے فعل کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ سول نافرمانی تیسری تدبیر رسول نافرمانی بتائی جاتی ہے۔ علاوہ اس کے کہ میں اس تدبیر کا مذہباً مخالف ہوں عقلاً بھی میرے نزدیک اس تدبیر کو اختیار کرنا درست نہیں۔ سول نافرمانی ہائی کورٹ کے خلاف نہ ہو گی بلکہ گورنمنٹ کے خلاف ہو گی اور گورنمنٹ کا اس معاملہ میں کوئی قصور نہیں ہے۔ گورنمنٹ اس وقت اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہے۔ گورنر صوبہ بڑے زور دار الفاظ میں ہائی کورٹ کے فیصلہ پر استعجاب ظاہر کر چکے ہیں اور اس کو منسوخ کرانے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ وہ بے شک بوجہ غیر مذہب کے پیرو ہونے کے اور قانون کی اُلجھنوں کے اس طرح جلدی سے عمل نہیں کر سکتے جس طرح کہ ہمارے دل چاہتے ہیں۔ لیکن وہ ظاہر کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد اور ہمارا مقصد اس قانون کے بارہ میں ایک ہی ہے۔ پس سول نافرمانی کرنے کے یہ معنیٰ ہوں گے کہ ہم گورنمنٹ کو جو اس معاملہ میں ہم سے اتفاق رکھتی ہے اپنا مخالف بنالیں۔ لیکن سول نافرمانی چونکہ گورنمنٹ کے خلاف ہو گی وہ اس چیلنج کو قبول کئے بغیر نہیں رہ سکے گی اور اس طرح ہم اپنے ہاتھوں سے ہندوؤں کے تیار کردہ گڑھے میں گر جائیں گے جس میں ہمیں گرانا ان کی عین خواہش ہے۔ ہمیں ایک لمحہ کے لئے بھی اس امر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارا جھگڑا اس وقت ہندوؤں سے ہے اور ان میں بھی در حقیقت آریہ سماجیوں سے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں کامل آزادی نہیں حاصل کر سکتے جب تک کہ مسلمان اس ملک میں باقی ہیں۔ وہ ہندوستان میں برہمنگ قانون کو جاری کرنا جاتے ہیں جو برطانوی اور اسلامی قانون آزادی کے بالکل بر خلاف ہے۔ اور وہ جانتے ہیں کہ اس اختلاف کی وجہ سے جب بھی ہندو اپنے مقصد کو پورا کرنا چاہیں گے، انگریز اور مسلمان ملکر ان کے راستہ میں روک بنیں گے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان دو طاقتوں کے مقابلہ میں وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ پس وہ پہلے مسلمانوں کو کمزور کر کے نکما کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد وہ انگریزوں سے پیٹیں گے۔ مگر اس تحریک کے بانی ہو شیار بھی بہت ہیں۔ وہ مسلمانوں اور انگریزوں کو لڑوانا چاہتے ہیں اور بسا اوقات انگریز ان کے فریب میں آکر مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ ہیں۔ اور بعض اوقات مسلمان کی بات پر مشتعل ہو کر انگریزوں کو اپنا مخالف خیال کرنے لگتے ہیں۔ مگر