انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vi of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page vi

ج کسی عقل مند کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہو سکتا۔ اس جلد میں ”مذہبی رواداری کی ایک بے نظیر مثال" کے نام سے ایک واقعہ کا ذکر ९९ ہے۔ قادیان کے کچھ سکھ صاحبان نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کی کہ ماسٹر عبد الرحمن صاحب (سابق مہر سنگھ) کی کتاب ”گرو بابا نانک کا مذہب میں ان کے پیشواؤں پر حملہ کیا گیا ہے۔ حضور نے معاملہ کی تحقیق فرمائی تو فرمایا کہ اگر چہ یہ کتاب قانون کی زد میں نہیں آتی مگر سکھوں کا دل دکھانے کیلئے کافی ہے۔ لہٰذا سکھوں کی دلداری کیلئے حضور نے یہ غیر معمولی اور تاریخی اہمیت کا قدم اٹھایا کہ جماعتی طور پر اس کتاب کو ضبط کرنے کا حکم فرما دیا اور حکم فرمایا کہ کوئی احمدی اس کتاب کو اپنے پاس نہ رکھے۔ دنیائے مذاہب کی تاریخ میں اس قسم کے نادر واقعہ کی مثال شاید ہی کہیں مل سکے۔ اس جلد کی تیاری کے مختلف مراحل میں بہت سے بزرگوں اور مربیان سلسلہ نے ولی محبت اور اخلاص سے خدمات انجام دی ہیں۔ نے مسودات کی ترتیب پروف ریڈنگ حوالہ جات کی تلاش اور نظر ثانی کے سلسلہ میں خاکسار کی عملی معاونت فرمائی ہے۔ فَجَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ تعارف کتب مربیان سلسلہ کا تحریر کردہ ہے۔ خاکسار ان کا بھی دلی شکریہ ادا کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ خدا تعالیٰ ان سب احباب کو اپنے افضال اور برکات سے نوازے۔ ان کے علم و معرفت میں برکت ڈالے۔ بے انتہا فضلوں اور رحمتوں سے نوازے اور ہمیں اس اہم ذمہ داری سے صحیح طور پر عہدہ برآ ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین