انوارالعلوم (جلد 9) — Page 554
انوار العلوم جلد 9 ۵۵۴ رسول کریم کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے؟ قدر جوش دلانا چاہتے ہیں کہ مسلمان آپے سے باہر ہو کر خونریزی پر اُتر آئیں۔ اور اس طرح انہیں اپنی سنگھٹن میں مدد ملے۔ لیکن کیا مسلمان اس دھوکے میں آئیں گے؟ آخر سوامی شردھانند کے قتل سے اسلام کو کیا فائدہ ہوا خونریزی ہرگز کوئی نفع نہیں دے سکتی۔ وہ اخلاقی اور تمدنی طور پر قوم کو سخت نقصان پہنچاتی ہے۔ پس مسلمانوں کو اس قسم کی تحریروں سے ضرور واقف ہونا چاہئے۔ لیکن اپنے جوشوں کو دبا کر غیرت پیدا کرنی چاہئے۔ اور سوچنا چاہئے کہ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر شدید حملوں کی ہندوؤں کو جرات کیوں ہوئی ہے؟ اگر وہ اس امر غور کریں گے تو انہیں معلوم ہو گا کہ اس کا سبب صرف یہی ہے کہ ان کے نزدیک مسلمان آپ کے ناخلف فرزند ہیں۔ پس وہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کی جرات نہیں۔ پس اگر مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی رکھتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ ہندو قوم پر ثابت کر دیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے قیام کے لئے ہر اک قربانی کے لئے تیار ہیں۔ اور اگر وہ اس امر کے لئے تیار ہوں تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس قسم کے حملوں کا دفعیہ صرف اور صرف تین طرح ہو سکتا ہے۔۔ (1) اپنی عملی حالت کی اصلاح ہے۔ تاکہ ہمارے عمل کو دیکھ کر ہر اک دشمن اسلام یہ کہنے پر مجبور ہو کہ جس اُستاد کے یہ شاگرد ہیں اس کی زندگی کیا ہی شاندار اور مزکی ہو گی۔ (۲) تبلیغ کے ذریعہ ہے۔ تاکہ جو لوگ گالیاں دینے والے ہیں ان کی تعداد خود بخود کم ہونے لگے۔ اور جو پہلے گالیاں دیتے تھے اب درود پڑھنے لگیں۔ مکہ کے لوگوں کی گالیاں کسی طرح زور ہوئیں۔ اسی طرح کہ وہ اسلام کو قبول کر کے درود بھیجنے لگے۔ پس اب بھی اس دریدہ دہنی کا یہی علاج ہو سکتا ہے۔ اس تدبیر سے ہراک شریف الطبع تو اسلام کی خوبیوں کا شکار ہو جائے گا۔ اور شریر الطبع جن کو اپنی تعداد پر گھمنڈ ہے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر خود ہی ان طریقوں سے باز آجائیں گے۔ (۳) تیسرا طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تمدنی حالت کو درست کیا جائے۔ ان ہندو مصنفین کو اس امر پر بھی گھمنڈ ہے کہ ان کی قوم دولتمند ہے اور گورنمنٹ میں اسے رسوخ حاصل ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ بات سچی ہے۔ مگر اس کی وجہ خود مسلمانوں کی غفلت ہے۔ مسلمان جو کچھ کماتے ہیں اسے خرچ کر دیتے ہیں۔ اور اکثر ہندوؤں کے مقروض ہیں اور ایک ارب کے قریب روپیہ سالانہ مسلمان ہندوؤں کو سود میں ادا کرتے ہیں اور اشیائے خوردنی کی خرید میں اس