انوارالعلوم (جلد 9) — Page 552
انوار العلوم جلد 9 ۵۵۲ رسول کریم کی محبت کا دعوی کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے ؟ سامنے شادی ہونے کا دعوی بالکل غلط ہے اور صریح دھوکا ہے۔ تو بھی مقررہ معیاد تک عذاب کا مزہ چکھ"۔ آگے حضرت علیؓ کے متعلق بھی لکھا ہے۔ لیکن میں اسے نہیں سمجھا اس لئے اسے چھوڑتا ہوں۔ ہر اک مسلمان اس امر کو سمجھ سکتا ہے کہ اس افسانے کے پردہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے واقعہ ، حضرت عائشہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسواک چبا کر دینے کے واقعہ اور حضرت زینب کے نکاح کے واقعہ کی طرف اشارہ کر کے افتراء اور جھوٹ کی نجاست پر منہ مار کر اور اصل واقعات کو بگاڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور امہات المومنین رَضِيَ الله عنه کو ایسی گالیاں دی گئی ہیں کہ شاید ایک چوڑھا بھی اس قسم کی گالیاں دینے سے ، دریغ کرے گا۔ لیکن ان دشمنان اسلام کو آج ہماری ساری قوم کا اس قدر بھی پاس نہیں رہا جس قدر کہ ایک معمولی آدمی کے احساسات کا ہوتا ہے۔ اور اس قسم کے مصنفین میں اس قدر بھی شرافت نہیں رہی جس قدر کہ ایک چوڑھے میں ہوتی ہے؟ کیا اس سے زیادہ اسلام کے لئے کوئی اور مصیبت کا دن آسکتا ہے؟ کیا اس سے زیادہ ہماری بے کسی کوئی اور صورت اختیار کر سکتی ہے۔ کیا ہمارے ہمسائیوں کو یہ معلوم نہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فَدَتَهُ نَفْسِی وَ أَهْلِی کو اپنی ساری جان اور سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ ان پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی خدا ہے۔ اگر وہ اس امر سے واقف ہیں تو پھر اس قسم کی تحریرات سے سوائے اس کے اور کیا غرض ہو سکتی ہے کہ ہمارے دلوں کو زخمی کیا جائے اور ہمارے سینوں کو چھیدا جائے اور ہماری ذلت اور بے بسی کو نہایت بھیانک صورت میں ہماری آنکھوں کے سامنے لایا جائے اور ہم پر ظاہر کیا جائے کہ مسلمانوں کے احساسات کی ان لوگوں کو اس قدر بھی پرواہ نہیں جس قدر کہ ایک امیر کبیر کو ایک ٹوٹی ہوئی جوتی کی ہوتی ہے۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمانوں کو ستانے کے لئے ان لوگوں کو کوئی اور راستہ نہیں ملتا۔ ہماری جانیں حاضر ہیں، ہماری اولادوں کی جانیں حاضر ہیں، جس قدر چاہیں ہمیں دُکھ دے لیں لیکن خدا را نبیوں کے سردار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر آپ کی ہتک کر کے اپنی دُنیا اور آخرت کو تباہ نہ کریں کہ اس ذات بابرکات سے ہمیں اس قدر تعلق اور وابستگی ہے کہ اس پر حملہ کرنے والوں سے ہم کبھی صلح نہیں کر سکتے۔ ہماری طرف سے بار بار کہا گیا ہے اور میں پھر دوبارہ ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے۔ لیکن ان لوگوں سے ہرگز نہیں ہو سکتی