انوارالعلوم (جلد 9) — Page 551
انوار العلوم جلد 9 ۵۵۱ رسول کریم کی محبت کا دعوی کرنے والے کیا اب بھی پیدار نہ ہوں گے؟ شروع میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ ایک نورانی جسم آسمان کی سیر کرانے کے لئے میرے پاس آیا اور میرے لئے ایک سواری لایا جسے دنیا کے لوگ سن سنا کر براق کہتے ہیں۔ میں اس سواری میں بیٹھ کر پہلے جنت کی سیر کے لئے گیا۔ وہاں میں نے سری رامچندر، سری کرشن، شنکر آچاریہ وستوں گورو اورو د اور اور پنڈت پنڈت دیانند، و پنڈت لیکھراما رام اور سوامی شردھانند کو دیکھا۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ میں نے دوزخ کے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور وہاں میں نے دیکھا کہ ”ایک دراز ریش بڑھا، برہنہ بدن آگ میں تپتی ہوئی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا بہت سی برہنہ عورتیں اس کے گرد حلقہ کئے تھیں جو نہایت ہی حسین تھیں مگر بدن زخموں کی کثرت سے چھلنی ہو رہے تھے جن سے پیپ بہ رہی تھی۔ پیاس کی شدت سے بڑھے کی زبان لٹک رہی تھی۔ پانی نایاب تھا۔ اس لئے بار بار وہی پیپ پیتا تھا۔ لیکن پیاس نہ بجھتی تھی۔ وہاں اور بھی مرد و عورت تھے۔ لیکن بڑھے کے نزدیک ایک سب سے زیادہ حسین لڑکا اور ایک نوجوان بیٹھے تھے"۔ پھر لکھتا ہے کہ میرے پہنچنے پر بڑھا میرے پاؤں پر گر کر بولا۔ اللہ مجھے بخشو۔ کئی سالوں سے عذاب میں مبتلاء ہوں۔ میری شفاعت کرو"۔ میں نے کہا ”مہامند! تم تو خود کو شفیع کہا کرتے تھے۔ اب میری شفاعت کی کیا ضرورت کیجئے۔ نہیں لئے : ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے“ مہامند نے جواب دیا دیا یا حبیب اللہ ۔ میں آپ سے وعدہ وعدہ کر کے پھر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کے نام ان سب عورتوں کی عصمت دری کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب رحم کیجئے۔ خطا معاف کیجئے۔ میری شفاعت میں: ” یہ امر نا ممکن ہے خدا کی سزا میں کمی بیشی ۔ فی میرے احاطہ اختیار سے باہر ہے۔ میں شفیع ہوں"۔ بڑھا مایوس ہو کر بیہوش ہو گیا۔ تب اس لڑکی اور آ اور ایک عورت نے میرے پاؤں پکڑ ۔۔۔ میں نے لڑکی کا سر اُٹھا کر کہا "آشہ تم کیوں اضطراب میں ہو تمہارا خاوند تو شفیع ہے " آشہ: یا حبیب اللہ ! کیا اپنی نفسانی خواہشات کی آگ خدا کے نام پر کثیر التعداد عورتوں کی عصمت دری کرنے والا انسان بھی شفیع ہو سکتا ہے اور جس کی جان نزع کے وقت آسانی سے نہیں نکلتی تھی۔ میری جو بھی مسواک کے ٹھوک سے جس کی تکلیف کم ہوئی تھی وہ میرا شفیع نہیں ہو سکتا۔ اب میں بخوبی سمجھتی ہوں"۔ میں: "لیکن آشہ تمہارا گناہ بھی ناقابل معافی ہے۔ مہامند کے مرنے کے بعد علم ہو جانے پر تمہیں یہ راز طشت از بام کر دینا چاہئے تھے۔ مگر تم نے دنیا کی حرص میں اس کی تبلیغ کی۔ اس لئے اور سزا بھگتو اس کے بعد دوسری عورت بولی۔ لیکن حضور میں قطعی بے قصور ہوں۔ میں اپنے خاوند کی خوشی سے ان کی نفس پرستی کا شکار ہوئی " میں: ”جنبھی کیوں جھوٹ بولتی ہے۔ مہامند تیرا سر تھا۔ تو نے اپنے خاوند جنت کو کیوں نہ بتایا کہ عالم بالا کے فرشتوں کے