انوارالعلوم (جلد 9) — Page 549
انوار العلوم جلد 9 ۵۹ رسول کریم کی محبت کا دعوی کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے ؟ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے ؟ رقم فرموده مورخه ۲۹ مئی ۱۹۲۷ء ) مسیحی اور آریہ جس طرح سالہا سال سے بانی اسلام عَلَيْهِ السَّلَامُ قَدَتْهُ نَفْسِي وَأَهْلِي کے خلاف زہر اُگلتے چلے آ رہے ہیں اسے وہ لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں جو ان کی کتب کے پڑھنے کے عادی ہیں۔ وہ کتب اس قدر گندے الفاظ سے پر ہیں کہ ایک مسلمان کے لئے ان کا پڑھنا نا ممکن ہو جاتا ہے لیکن چونکہ مسلمان ان کتب سے عام طور پر واقف نہیں ہوتے انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کتب کے مصنفین ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کسی قسم کے خیالات کی اشاعت کر رہے ہیں اور اس وجہ سے ان میں وہ بیداری بھی نہیں پیدا ہوتی جو قومی زندگی کے لئے ضروری ہے۔ وہ اپنی ذمہ داری سے غافل رہتے ہیں اور اسلام کی خدمت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کا خیال ایک دبی ہوئی چنگاری کی طرح ان کے سینوں میں مخفی رہتا ہے۔ اسی نقص کو دیکھ کر بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے اپنی کتب میں ان گالیوں کی نقل کر کے جو مسیحی اور آریہ مصنفین کی کتب میں ہمارے مقدس رسول کو دی گئی ہیں مسلمانوں کو بیدار کرنا چاہا تھا۔ لیکن افسوس کہ بعض انسانی فطرت کے ناواقفوں نے اس کا نام بے ادبی رکھا اور اس کے خلاف شور مچایا حالانکہ کفار کی گالیوں کو قرآن کریم بھی نقل کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی نگہداشت رکھنے والا اور کون ہو گا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اس گہری عداوت کی رو سے جو اندر ہی اندر مختلف مذاہب کے پیروؤں کے دلوں میں پیدا کی جا رہی تھی ناواقف رہے اور جبکہ دوسری اقوام اسلام کی دشمنی کے خیالات میں پل کر ہوشیار ہو