انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 23

انوار العلوم جلد 9 ۲۳ مستورات سے خطاب نہ ہو۔ اور کوئی عورت اس قسم کی نہیں مل سکتی جو اس بات کو سمجھتی نہ ہو کہ تعلیم کی کیا قدر ہوتی ہے اور اس کی قوم کو کس طرح فائدہ اٹھانا چاہئے وہاں میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں مردوں کی طرح میدان عمل میں نکلتی ہیں۔ وہ ویسی ہی تقریریں کرتی ہیں جیسی مرد تقریر کرتے ہیں ۔ وہ اسی طرح مختلف قسم کی سوسائٹیوں میں شریک ہوتی ہیں جیسے مردان کے ممبر ہوتے ہیں ۔ اور وہ تمام معاملات میں مردوں کی طرح اس سوسائٹی میں دخل دیتی ہیں۔ ملکی معاملات اور حکومت کے کام میں بھی اسی طرح دخیل ہیں جس طرح مرد پارلیمینٹ کی ممبر بنتی ہیں ۔ مردوں کی طرح معقولیت سے پارلیمینٹ کے کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔ یورپ میں کوئی میدان نہیں جہاں مرد جاویں اور عورتیں نہ جاویں۔ وہاں عورتیں مردوں سے لڑتی ہیں کہ ہمیں کیوں کام پر نہیں جانے دیتے اور مطالبہ کرتی ہیں اور اپنے مطالبات میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ انسانیت کے لحاظ سے مرد و عورت دونوں برابر ہیں۔ ۔ خدا نے جیسی دو آنکھیں دوکان زبان ناک وغیرہ اعضاء برابر بنائے ۔ دل دونوں میں ہے ہاتھ پاؤں دونوں کے ہیں اپنے علم کے مطابق جو مرد کر سکتا ہے عورت بھی کر سکتی ہے۔ بے شک بعض کام ہیں جو عورتیں نہیں کر سکتیں جیسے جنگ کا کام ۔ مگر پھر بھی بہت سی عورتیں ملتی ہیں جنہوں نے میدان جنگ میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھلائے ۔ ایک موقع پر ابو سفیان کی بیوی نے اسلام کی وہ خدمت کی جو مرد نہیں کر سکتے تھے۔ عیسائیوں کی فوج دس لاکھ تھی اور مسلمان مرد ساٹھ ہزار تھے ۔ کافروں نے ایسا حملہ کیا کہ مسلمان بھاگنے لگے ۔ اسلامی لشکر عرب سے دور تھا اور انہیں بہت خطرہ ہو گیا جب یہ لشکر بھاگتا ہوا عورتوں کے خیمہ کے پاس پہنچا تو ہندہ نے جس نے کفر کے زمانہ میں حضرت حمزہ کی لاش کے ناک کان کٹوا دیئے تھے اپنے خیمہ کی چو میں اٹھالیں اور عورتوں سے کہا کہ تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے باپ بھائی وغیرہ کو روکے کہ وہ ۔ ہاں نہ آئیں واپس جا کر لڑیں۔ ابو سفیان خود بھی آ رہے تھے اس لئے ہندہ نے ابو سفیان کے گھوڑے کو ڈنڈے مار کر پیچھے پھیر دیا اور کہا کہ اگر اس طرح بھاگ کر آؤ گے تو اپنے ہاتھ سے قتل کر دوں گی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا لشکر جو بے دل ہو کر واپس آرہا تھا پھر پیچھے مڑا اور دس لاکھ کو شکست فاش دی۔ وہ فتح محض عورتوں کی بہادری کا نتیجہ تھی۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ یورپ میں عورتیں مردوں سے ہمیشہ مطالبہ کرتی رہتی ہیں کہ ہمیں کام کیوں نہیں کرنے دیتے۔ جس کانفرنس میں میں گیا تھا اس کی سیکرٹری ایک عورت تھی محنت سے سب کام کرتی۔ میں نے وہاں کے حالات کا مطالعہ کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہمارے ملک کے