انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 544

۵۴۴ کھانے کی فکر میں ہیں آپ کے دل میں حرارت نہیں پیدا ہوتی۔کیا ایک بچہ جتنی بھی آپ کو اسلام سے محبت نہیں رہی؟ کیا خدا تعالی کے لئے آپ اس قدر قربانی بھی نہیں کر سکتے جس قدر کہ اپنے معمولی دوستوں کے لئے کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔یاد رکھو کہ آپ خداتعالی کے دین کی مدد کے لئے ایک قدم اُٹھائیں گے تو وہ آپ کی مدد کے لئے دو قدم اٹھائے گا اور آپ کے دل کو آخر کار اسی نور ایمان سے بھر دے گا جس سے کہ اس نے صحابہ ؓکے دلوں کو بھر دیا تھا۔وہ فرماتا ہے۔والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا۔۲؎ جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنے خاص راستوں پر چلا کر اپنے حضور میں لے آتے ہیں۔پس یقین جانئے کہ اس فتنہ کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔اور وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی پرانی دوستی کو آپ سے پھر تازہ کرے اور اپنے قرب کی راہیں آپ کے لئے پھر کھولے۔پس اُٹھو اور خدمت اسلام کے لئے إستادہ ہو جائے۔اور اپنی اپنی جگہ پر دشمنانِ اسلام کے علمی مقابلے کی تیاری کرنی شروع کردو۔میں یہ بھی اعلان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ موجورو حالت کو مدنظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں کہیں بھی آریوں کے مقابلہ کی ضرورت ہو یا اسلام کی تائید میں لیکچر د لانے کی ضرورت ہو وہاں جلد سے جلد مبلّغ بھیجے جائیں۔پس تمام ہمدردانِ اسلام کو میں مطلع کرتاہوں کہ جہاں کہیں بھی دیگر مذاہب کی طرف سے اسلام کے خلاف زہر اُگلا جاتا ہو یا جہاں کہیں بھی اسلام کی تعلیم سے واقف کرکے مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کی حقیقت پر آگاہ کیا منظور ہو وہاں جلسہ کا انتظام کر کے صیغہ ترقی اسلام قادیان کو اطلاع دیں انشاء الله فوراً مبلّغ بھیجے جائیں گے۔جن ہمدردانِ اسلام کے دل میں اسلام کی خدمت کا شوق ہو اور وہ نہ جانتے ہوں کہ کس طرح اپنے گھر پر رہ کر اور اپنے کام میں مشغول رہ کر وہ خد مت اسلام میں حصہ لے سکتے ہیں ان کے لئے میں نے ایک رسالہ لکھا ہے ’’آپ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟" پس آپ کو چاہئے کہ فوراً محصول ڈاک دو پیسہ کے ٹکٹ بھیج کر صیغہ ترقی اسلام سے یہ رسالہ مفت طلب کریں۔اگر کوئی صاحب دو پیسے ڈاک کے لئے بھی خرچ نہ کرنا چاہیں یا ان میں اسقدر بھی توفیق نہ ہو تو ان کا خط ملنے پر انہیں رسالہ مفت اپنے پاس سےٹکٹ لگا کر بھیج دیا جائے گا۔یہ اعلان کر کے میں خدا تعالی کے سامنے بری الذمہ ہوں۔اگر اب بھی مسلمان نہ جاگے تو میں اس کے حضور عرض کروں گا کہ اسے خدا! جو کچھ ہم سے ہو سکتا تھا ہم نے کیا۔مگر وہ تیرے بندے بیدار نہ ہوئے۔انہوں نے دولت اسلام کو اپنی آنکھوں سے لُٹتا ہوا دیکھا اور حرکت نہ کی۔ندا و رسول کی ہتک