انوارالعلوم (جلد 9) — Page 543
انوار العلوم جلد 9 ۵۲۳ اسلام کی آوا سے آگاہی بھی نہیں اس لئے میری فتح یقینی ہے۔ مسلمانوں کا جھنڈے لے کر جلوس نکالنا یا مسجد کے آگے باجہ لے جانے پر لڑ پڑنا کیا فائدہ دے سکتا ہے۔ اگر ہر لڑائی میں برابر کے ہندو اور برابر کے مسلمان مارے جائیں۔ نہیں نہیں۔ اگر ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں دو دو ہندو بھی مارے جائیں تو کیا بنے گا۔ یہی کہ سب مسلمانوں کا خاتمہ ہو جانے پر ہندو ہی ہندوستان پر قابض رہیں گے کیونکہ ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں چار چار ہندو ہیں۔ مگر سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اسلام لڑائیوں اور فساد سے روکتا ہے۔ ہم ان طریقوں سے اسلام کی خدمت کس طرح کر سکتے ہیں کہ جو اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ اگر ہم خود بھی اسلام کی تعلیم کے خلاف عمل کر رہے ہیں تو دوسروں پر ہماری باتوں کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ پس ان طریقوں سے بچنا چاہئے کہ یہ طریقے اسلام کی تعلیم کے خلاف بھی ہیں اور بے فائدہ بھی ہیں۔ ہندوستان میں اسلام کو امن جبھی نصیب ہو سکتا ہے اگر ایک طرف تو موجودہ مسلمانوں کی تربیت کی جائے اور دوسری طرف ہندوؤں کو مسلمان بنایا جائے اسلام نے مسلمانوں کی ترقی کا راز ہی تبلیغ میں پوشیدہ رکھا ہے۔ اور مسلمانوں کی فضیلت ہی دعوۃ الی الخیر کو بتایا ہے۔ فرماتا ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ تم سب سے اچھی ام امت ہو ہو کیونکہ تمہیں خدا تعالیٰ نے دنیا کی بھلائی ↓ کے لئے پیدا کیا ہے۔ تم لوگوں کو نیک باتوں کی نصیحت کرتے اور بد باتوں سے روکتے ہو۔ پس اگر مسلمانوں کو امن نصیب ہو گا تو اسی طرح کہ وہ مسلمانوں کی تربیت کریں اور انہیں مرتد ہونے سے بچائیں اور سب سے پہلے ہندوستان کے دیگر مذاہب کے پیروؤں کو اپنے اندر شامل کر لیں۔ اسی ذریعہ سے ملک میں امن ہو گا اور اسی ذریعہ سے اسلام کو دنیا میں غلبہ نصیب ہو گا۔ پس چاہئے کہ آج سے ہر ایک مسلمان اس فرض کی ادائیگی کے لئے تیار ہو جائے۔ چند علماء اس کام کو ہرگز نہیں کر سکتے۔ اگر علماء پر اس بات کو رکھا گیا تو شکست یقینی ہے۔ فتنہ ہر جگہ رونما ہے اور اس کے لئے ایسی جدوجہد کی ضرورت ہے جو ہندوستان کے ہر گوشہ میں کی جائے۔ ایک باقاعدہ نظام کے ماتحت اگر ارتداد کو روکا نہ گیا اور دعوۃ اسلام نہ دی گئی تو کامیابی کی کوئی امید نہیں۔ پس اس امر کے لئے مسلمانوں کو تیار ہو جانا چاہئے۔ اے برادران ! ذرا غور تو کرو کہ آپ کا ایک بچہ بیمار ہو جاتا ہے تو آپ اس کے لئے بے تاب ہو جاتے ہیں اور اس وقت تک صبر نہیں کرتے جب تک وہ اچھا نہ ہو جائے۔ تو کیا وجہ ہے کہ اسلام اس حالت کو پہنچ گیا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ دوسرے مذاہب کو کھاتا تھا لوگ اسے