انوارالعلوم (جلد 9) — Page 534
۵۳۴ ہیں۔(۱۱) بعض تعلیمی صیغے ایسے ہیں کہ ان کی طرف توجہ مسلمانوں کے آئندہ مفاد کے لئے ازحد ضروری ہے۔پس اگر آپ پروفیسر ہیں یا تعلیم کے کام سے دلچسپی رکھتے ہیں تو ایسے تعلیمی شعبوں سے صیغہ مذکورہ کو اطلاع دیتے رہا کریں جن میں مسلمان کم ہیں اور جن میں شمولیت مسلمانوں کے لئے مفید ہے اور خود بھی مسلمان طالب علموں کو تحریک کرتے رہیں کہ وہ ان شعبوں میں داخل ہوں تا آئنده اسلامی کام میں مفید ہو سکیں۔(۴) اگر آپ کو خدا تعالی نے آسودگی دی ہے اور اولاد عطا کی ہے اور اسلام کی خدمت کا شوق دیا ہے تو اند ها دُھند پُرانی لکیر پر چل کر ایک ہی لائن پر اپنے بچوں کو نہ چلائیں بلکہ اپنے بچہ کو اعلیٰ تعلیم دلانے سے پہلے اپنے احباب سے مشورہ کر لیں کہ کس تعلیم سے نہ صرف بچہ ترقی کر سکتا ہے بلکہ مسلمانوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔صیغہ مذکورہ بالا کو اطلاع دینے پر وہ بھی ہرقسم کا مشورہ دینے کے لئے تیار رہے گا۔اگر اس کا مشورہ آپ کو مفید نظر آئے تو اس پر آپ عمل کر سکتے ہیں۔(۳) آپ اس طرح بھی اسلام کی خدمت کر سکتے ہیں کہ خود بھی سادہ زندگی کو اختیار کریں اور اپنے بچوں کو بھی سادہ زندگی اختیار کرنے کی تحریک کریں۔سادہ زندگی قربانی کی روح اور جرأت پیدا کرتی ہے جس کی قومی ترقی کے لئے ازحد ضرورت ہے۔(۱۴) اگر آپ کو خدا تعالی نے عزت دی ہے تو غرباء سے اور اگر آپ شہری ہیں دیہاتوں سے تعلق بڑھائیں تا اسلامی برادری کا احساس قلوب میں پیدا ہو اور اس کا چھوڑنا طبائع پر گراں گزرے۔(۵) اگر آپ کو توفیق ملے تو تعاون باہمی کی انجمنیں اپنے علاقوں میں قائم کریں۔لیکن اس کے لئے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ذرا سی بد دیانتی بلکہ غفلت سے بھی اس قسم کی انجمنیں بجائے فائدہ دینے کے ضرر رساں ہو جاتی ہیں اور بُغض اور عداوت پیدا ہو جاتی ہے۔(۱۶) ہندو مسلمانوں سے چُھوت کرتے ہیں اور کھانے کی چیزیں ان سے نہیں خریدتے نہ ان کے پکے ہوئے کھانے کھاتے ہیں۔اس کا یہ نقصان ہو رہا ہے کہ:۔(1) نَو مسلم اقوام جو کہ چُھوت کرنے والے کو بڑا خیال کرتی آئی ہیں وہ مسلمانوں کو اس سلوک پر راضی دیکھ کر یہ خیال کرتی ہیں کہ مسلمان اپنے آپ کو ہندوؤں سے ادنی ٰ سمجھتے ہیں اور اس خیال کی وجہ سے وہ ہندوؤں کی طرف جانے کو پسند کرتی ہیں۔