انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 21

انوار العلوم جلد 9 ۲۱ مستورات سے خطاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مستورات سے خطاب فرموده ۲۸ - دسمبر ۱۹۲۴ء بر موقع جلسه سالانه ) حضور نے تشہد و تعوذ کے بعد سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور فرمایا ۔ میں سب سے پہلے اللہ ن تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہماری ہدایت کے لئے مسیح موعود کو بھیجا اور ہمیں اس کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ۔ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ، پھر میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہماری جماعت کے دلوں میں اس بات کا جوش اور تڑپ رکھ دی ہے کہ وہ اس پیغام کو پہنچائیں۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اور جس حالت میں وہ مبتلاء ہو رہے ہیں اس کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ بہت بڑا معجزہ ہے کہ آپ کے طفیل عورتوں تک میں بھی یہ خواہش موجود ہے کہ اولاد ایسی ہو جو خادم دین ہو ۔ وہ عورتیں جو پہلے اپنے وقت کو لڑائی جھگڑوں یا غیبت میں گنواتی تھیں اب حضرت مسیح موعود کو قبول کر کے دین کی خدمت میں صرف کرتی ہیں۔ تاہم میں اس امر کے اظہار سے رُک نہیں سکتا کہ جہاں ہماری جماعت کے مردوں کے لئے دینی ترقی کے راستے طے کرنے باقی ہیں وہاں ہماری جماعت کی عورتوں کے لئے بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مردوں کی نسبت عورتوں میں ابھی دینی ترقی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ دینی اور دنیاوی حالت اور چیز ہے اور کام کرنے کی قابلیت اور چیز ہے ۔ ایک ہیں کہ انہیں دل میں بہت جوش ہے مگر اس کے لئے سامان نہیں ۔ یا تو سامان ہیں مگر طرز استعمال نہیں ۔ مثلاً ایک آدمی بیمار ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں اچھا ہو جاؤں اور کونسا بیمار ہے جو یہ نہ چاہتا ہو کہ مجھے صحت حاصل ہو جائے مگر وہ جنگل میں جہاں کوئی معالج یا ڈاکٹر نہیں مل سکتا یا اگر حسن اتفاق سے مل