انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 524

انوار العلوم جلدة ۵۲۴ فسادات ناہوں پر تبصرہ مسلمان کے جذبات ہمیشہ اس کے قابو میں رہتے ہیں۔ ہمیں اپنا بدلہ اس تعلیم سے اور اس تعصب سے لینا چاہئے جس کے نتیجہ میں یہ واقعات ظاہر ہو رہے ہیں اور ہمیں یہ عہد کر لینا چاہئے کہ ہندوستان کے ہر گھر میں اسلامی تعلیم کو قائم کر وائیں۔ تا نہ یہ اختلاف مذاہب رہے اور نہ یہ خونریزیاں ہوں۔ ان تمام فسادات کا علاج صرف تبلیغ اسلام ہے اور اس کام کے لئے لئے ہمیں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے ۔ عارضی جوش اسلام کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اسلام ہم سے اس قربانی کا مطالبہ کرتا ہے جو ہر روز کی جائے دن کو بھی اور رات کو بھی۔ وہ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اپنے آرام اور اپنی آسائش کو اس کے لئے قربان کر دیں۔ ہم اس کی اشاعت کے لئے اپنے سارے ذرائع کو استعمال کریں اور سانس نہ لیں ، آرام کی نیند نہ سوئیں جب تک اس امر میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ پس پچھلے واقعات سبق حاصل کر کے آپ لوگوں کو چاہئے کہ اشاعت اسلام کی طرف توجہ کریں۔ اور اپنے سے اموال اور اپنے اوقات اس راہ میں خرچ کریں۔ میں آپ لوگوں کو یہ بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ سکھ صاحبان کے گرو اسلام کے بہت بڑے مداح تھے۔ اور مسلمان اولیاء سے ان کے گہرے تعلقات تھے بلکہ ہماری تحقیق کی رو سے تو حضرت بارا نانک رَحمَةُ ا رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ مسلمان تھے۔ تبھی تو انہوں نے مکہ کار کا حج کیا اور بادا فرید صاحب رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ کے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور ان کے جانشینوں نے میاں میر صاحب رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ سے امرتسر کے گوردوارہ کا پتھر رکھوایا ۔ لیکن بہرحال اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ان کے تعلقات مسلمانوں سے ہندؤوں کی نسبت زیادہ تھے اور صرف بعد میں سیاسی اختلافات کی وجہ سے سکھ صاحبان ہندو صاحبان سے مل گئے۔ لیکن اب بھی توحید کے مسئلہ میں وہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پس مسلمانوں کو چاہئے کہ سکھ صاحبان سے تعلقات کو بڑھائیں اور اس شورش کی وجہ سے اس امر کو نظر اندا رانداز کر دیں کہ سکھ صاحبان صرف ہندووں کا ہتھیار بنائے گئے ہیں ورنہ وہ دل سے مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں۔ بلکہ بوجہ اپنے بزرگوں کی نصائح اور توحید پر ایمان رکھنے کے مسلمانوں کا داہنا بازو ہیں اور مسلمانوں کی ذراسی توجہ کے ساتھ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر ملک سے فساد اور شورش کو مٹانے کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔ خصوصاً جب کہ ان کا سیاسی فائدہ بھی مسلمانوں سے ملنے میں ہے۔ کیونکہ ہندؤوں سے مل کر وہ اس صوبہ میں قلیل التعداد ہی