انوارالعلوم (جلد 9) — Page 510
۵۱۰ کہ آدھی رات سوئے اور آدھی رات نماز پڑھے۔۲۰؎ گویا ہر بات میں میانہ روی سکھائی تاکہ وہم پیدا نہ ہو۔مذہب سائنس کیوں نہیں بتاتا سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر مذہب خدا کی طرف سے ہے تو پھر وہ سائنس کیوں نہیں بتاتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت ایسا ہی چاہئے تھا کہ مذہب سائنس بیان نہ کرے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یایها الين امنوا لا تسئلوا عن أشياء ان تبد لكم تسؤكم - ۲۱؎ یعنی اے ایمان والو۔ایسی باتوں کے متعلق سوال نہ کرو جن کے بتادینے سے تمہیں نقصان ہو۔اس پر سوال ہو سکتا ہے کہ خدا کی بتائی ہوئی بات سے نقصان کیسے ہو سکتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالی فرماتا ہے۔ہمیں تو بتادینے میں کچھ مضائقہ نہیں۔لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارا دماغی ارتقاء رک جائے گا اور تمہاری خود سوچنے اور غور و فکر کرنے کی قابلیت مرجاۓ گی اور تمہارا علمی ارتقاء مٹ جائے گا۔پس ہماری ذہنی ترقی کو قائم رکھنے کے لئے مذہب نے سائنس نہیں بتائی۔ہاں ضروری باتیں بتا دی ہیں جو ایجاد سے معلوم نہ ہو سکتی تھیں یا دیر سے معلوم ہوتیں۔مگر ہر ایک بات بتادینے سے ہمارے ذہنی ارتقاء کو نقصان ہو تا۔اور یہ مشاہدہ ہے کہ جس کا ذہنی اترقاء بند ہوا وہ قوم مٹ گئی۔مومن کے دو دن بھی برابر نہیں ہوتے بلکہ وہ ہر روز ترقی کرتا ہے۔اگر مذہب ساری کی ساری باتیں بتا دیتا تو انسان ذہنی طور پر اسی دن مرجاتا کیونکہ اس کا ذہنی ارتقاء بند ہو جاتا۔اس لئے مذہب میں اصول کو لے لیا گیا ہے اور جزئیات میں اجتہاد کی گنجائش رکھ دی ہے تاکہ انسان کا ذہنی ارتقاء بند نہ ہو۔کیا مذہب ذہنی ارتقاء بند کرتا ہے کہا جائے گا اگر ذہنی ارتقاء کے لئے ضروری تھا کہ مذہب سائنس بیان نہ کرے تو خود مذہب میں علمی ارتقاء کو کیوں بند کر دیا گیا ہے۔مذہب نے کیوں الہام کے ذریعے تعلیم دی۔کیوں نہ ہم پر ان باتوں کو چھوڑ دیا تا کہ ہم خود سوچتے اور غور و فکر کے بعد انہیں حاصل کرتے۔اس کا جواب یہ ہے کہ مذہب کے بہت سے مسائل کی بنیاد رضاء الہٰی پر ہے نہ کہ سائنس کی طرح شواہد پر۔اور رضاء کا علم وہ خود جانتا ہے سائنس نہیں بتاسکتی۔مثلاً اگر کوئی شخص اپنے کسی دوست سے ملنے جائے اور جا کر خاموش رہے تو اس کا دوست کس طرح معلوم کر سکتا ہے کہ میرا مہمان کیا کھائے گا۔ہاں مہمان اگر خود منہ سے بولے کہ میں فلاں چیز پسند کرتا ہوں تو میزبان کو اس