انوارالعلوم (جلد 9) — Page 507
۵۰۷ طاعون کے متعلق مزید انکشاف حد یث شریف میں طاعون کے متعلق بعض اور لطیف اشارات بھی پائے جاتے ہیں۔مثلا ًصحابہ نے عرض کی کہ طاعون کیا ہے تو حضورؐ نے فرمایا۔جنّ کاٹتے ہیں۔۱۲؎ جن سے مرض جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔اب اس کا عام جواب یہ کافی تھا کہ طاعون ایک مرض ہے۔مگر آپ نے ایسا جواب دیا جس میں اس مرض کے مخفی جرمز کی طرف اشارہ تھا۔حدیث شریف میں بعض اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں اور ان میں سے لفظ جن بھی ایک اصطلاح ہے۔یہاں پر جن سے مراد مخفی اور پوشیدہ چیز ہے۔چنانچہ ایک اور جگہ بھی جن کا لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔یعنی حضورؐ نے فرمایا۔ہڈی جنّ کی غذا ہے۔۱۳؎ جس سے مراد کیڑے اور جراثیم (BACTERIA) تھی۔پس اسی جگہ جن کے کاٹنے سے مراد وہ جن نہیں جو لوگ خیال کرتے ہیں بلکہ جراثیم مراد ہیں۔اس کا ایک اور حدیث سے بھی ثبوت ملتا ہے۔آپ نے فرمایا۔طاعون متعدی مرض ہے دوسرے علاقوں میں نہ جانا۔۱۴؎ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جن ّ نہیں کوئی اور وجود ہے۔ورنہ اگر اس سے مراد جنّ ہی ہو تو سوال ہوتا ہے کہ کیا وہ ہمارا محتاج ہے جو ہمارے ذریعے دوسری جگہ جائے گا۔خود بخود کیوں نہ چلا جائے گا۔پھر صحابہ رضوان الله عليهم کا یہ عمل تھا کہ جب طاعون پڑتی تو پھیل جاتے۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن ّمراد نہیں بلکہ پلیگ کے جراثیم مراد ہیں جو پھیل جانے، باہر کھلی ہوا، دھوپ اور روشنی میں ڈیرا لگانے سے مر جاتے ہیں۔اِس سے یہ نتیجہ ہے کہ حضرت نبی کریم کا یہ فرمان کہ جنّ کاٹتا ہے اس سے مراد پلیگ کے جراثیم تھے نہ کہ حاتم طائی والا جنّ۔مسواک کرنے کا طریق یہ ایک موٹی سی بات ہے مگر اس کا ثبوت بھی حدیث شریف سے ہی ملتا ہے۔اور وہ مسواک کی ضرورت اور اس کےکرنے کا پُر حکمت طریق ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔اگر مجھے اپنی امت کے لئے یہ حکم دو بھر معلوم نہ ہوتا تو مسواک کو فرض کرتا۔۱۵؎ آج مسواک کے ساتھ ہنسی اور تمسخر کیا جاتا ہے۔مگر آپ کے نزدیک مسواک کی اتنی اہمیت تھی کہ نزع کے وقت بھی حضور نے مسواک مانگی اور مسواک کی۔آج کی تحقیقات نے دانت کا جسم انسانی پر عظیم الشان اثر واضح کر دیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ کئی مزمن امراض (CHRONIC) کا باعث دانت اور مسوڑھوں کی خرابی ہے۔جسے (PYORRAOCA) کہتے ہیں۔امریکہ میں جنون کے اسباب کے متعلق ایک