انوارالعلوم (جلد 9) — Page 506
انوار العلوم جلد 9 ۵۰۶ ذہب اور سائنس لئے آئندہ تحقیقات کا ایک وسیع میدان کھول دیا ہے۔ قرآن نے اس سے ایک شرعی نتیجہ بھی نکالا ہے اور وہ یہ کہ خدا ایک ہے۔ جو ڑا احتیاج پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے ہر چیز ناقص ہے کیونکہ ہر چیز کو اپنی طاقت کے نشوو نما اور قوتوں کے اظہار کے لئے دوسرے سے ملنا ضروری ہے۔ اپنی ذات میں کامل اور احتیاج سے منزہ صرف ایک ہی ہستی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے جسے جوڑے کی ضرورت نہیں۔ کتے کے چائے ہوئے برتن کو مٹی سے ملنا حدیث شریف میں آتا ہے۔ اذا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَفْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَوْ لَهُنَّ بِالتُّرَابِ - " یعنی جس برتن کو کتا چاٹ جائے۔ اس کو سات دفعہ مٹی سے مل کر دھونا چاہئے۔ ڈاکٹر کاخ جو جرمنی کے مشہور پیتھالوجسٹ ہیں۔ اُنہوں نے PASTEAR INSTITUTES میں جب کام شروع کیا۔ تو اُنہیں چونکہ اسلامی لٹریچر کے مطالعہ کا شوق تھا۔ اس لئے خیال آیا حدیث میں جو آتا ہے کہ کتے کے چائے ہوئے برتن کو مٹی سے ملنا چاہئے۔ اس میں ضرور کوئی حکمت ہو گی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دانا آدمی تھے اُنہوں نے ضرور اچھی بات کہی ہو گی۔ پس انہوں نے تحقیقات شروع کی۔ تو معلوم کیا کہ مٹی کے اندر ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو RABIES ( کتے کا زہر) کے لئے مفید ہیں اور اس کے مصلح ہیں۔ گویا اُن کو اس حدیث نے اس طرف توجہ دلائی۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے۔ خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ ہے کو مارنے کا هم لا في الحرمِ وَالْإِحْرَامِ القارة و القران چوہے وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقَرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ الله کہ پانچ چیزیں بڑی ہیں ان کو احرام کی حالت میں اور خانہ کعبہ کے اندر بھی مار دینا چاہئے۔ ان میں سے ایک چوہا ہے۔ گویا اس طرح پلیگ کا راز منکشف کیا گیا۔ اور آج سے تیرہ سو سال قبل بتایا کہ پلیگ کا سبب چوہا ہے جس کی تصدیق حال کی تحقیقاتوں نے کر دی ہے۔ حالانکہ ان کو آج سے تیرہ سو سال قبل پلیگ کے جرم (GERM) کا پتہ نہ تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوہے کو مارنے کا حکم دے کر لوگوں کو بتا دیا کہ یہ میر جانور ہے۔ اور اس کی اہمیت اس سے معلوم ہو سکتی ہے کہ جس جانور کو بیت اللہ کے اندر مارنے کا حکم ہے۔ (جہاں جوں مارنے کی بھی اجازت نہیں) تو کیا دوسرے مقامات میں اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اور اس کے انسداد کی تدبیر نہ سوچی جائے گی۔