انوارالعلوم (جلد 9) — Page 504
انوار العلوم جلد 9 ۵۰۴ مذہب اور سائنس اسلامی احکام آج سے تیرہ سو سال قبل گو عجیب معلوم ہوتے تھے مگر اب آہستہ آہستہ ان کا فلسفہ اور حکمت ظاہر ہو رہی ہے۔ خواہ ان احکام کا تعلق علم النفس (PSYCHOLOGY) سے ہویا ہے۔ )CHEMISTRY( علم کیمیا سائنس کے متعلق جو اصولی انکشاف قرآن کریم نے کئے ہیں۔ ان میں ہر چیز مفید ہے سے ایک یہ ہے کہ دنیا میں ہرچیز کا فائدہ ہے۔ اور کوئی چیز اللہ تعالی نے فضول پیدا نہیں کی۔ یہ بات پہلے بیان نہ ہوئی تھی۔ صرف اسلام نے آج سے تیرہ سو سال قبل یہ عظیم الشان علمی نکتہ دنیا کو بتایا کہ کوئی چیز خواہ وہ بظاہر کتنی ہی بڑی ہو اس کے اندر ضرور اہم فوائد ہوں گے۔ گویا اصل غرض ہر چیز کی پیدائش کی نیک اور مفید ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمَتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ - سب تعریف اللہ تعالی ہی کے لئے ہے جو زمین و آسمان کا خالق ہے۔ اور جو نور اور ظلمت دونوں کا بنانے والے ہے۔ یعنی اللہ تعالی ظلمات مثلاً مصائب، تکالیف، آفات، دکھ، درد، بیماری، موذی جانور وغیرہ سب کا خالق ہے۔ اسی طرح نور یعنی آرام و آسائش، سکھ، مفید اشیاء وغیرہ کا بھی خالق ہے اور ہر چیز کی پیدائش سے اس کی حمد ہی ثابت ہوتی ہے۔ پھر فرمایا الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيُوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً - زندگی اور موت سب سے خدا کی حمد ہی نکلتی ہے۔ کیسا عجیب نظریہ پیش کیا ہے کہ ہر موذی چیز بھی مفید ہے۔ گویا اس طرح موزی اشیاء کے فوائد معلوم کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مثلاً سنکھیا بڑا خیال کیا جاتا ہے۔ مگر ہزاروں ہیں جو اس کے ذریعہ بچتے ہیں۔ اگر چند لوگ غلطی سے اسے کھا کر مر جائیں تو اس سے سنکھیا کے فوائد کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سنکھیا بہت سی امراض میں استعمال ہو رہا ہے۔ چنانچہ CHRONIC MALARIA (یعنی پرانا موسمی بخار) میں جب کو نین فیل ہو جائے۔ اور فائدہ نہ دے سکے۔ تو آرسینک ہی فائدہ دیتا ہے۔ پھر امراض خبیثہ (آتشک) اور RELAPSING FEVER (ہیرے پھیرے بخار میں بھی آرسینک دیا جاتا ہے۔ پس اگر ایک آدمی سنکھیا سے مرتا ہے تو ہزاروں اس کے ذریعے سے جیتے ہیں۔ پھر افیون کو ایک لعنت خیال کیا جاتا ہے۔ مگر آدھی طب افیون میں ہے۔ مارفیا کی جلدی پچکاری ہزاروں مریضوں کے لئے ایک نعمت ہے۔ اگر ادویہ کے غلط استعمال سے ہم نقصان اُٹھائیں تو یہ ہمارا قصور ہے۔ مثلاً چاقو مفید چیز ہے لیکن اگر ایک شخص اس سے بجائے کوئی چیز کاٹنے کے