انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 501

انوار العلوم جلد 9 ۵۰۱ مذہب اور سائنس اصل بات یہ ہے کہ ہمارا دماغ بعض دفعہ خدا تعالیٰ کے فعل اور کبھی خدا تعالیٰ کے قول کے سمجھنے میں غلطی کر جاتا ہے جس سے سائنس اور مذہب میں اختلاف نظر آتا ہے ورنہ اگر واقعہ میں مذہب خدا کی طرف سے ہے اور سائنس اس کا فعل ہے تو پھر ٹکراؤ نہیں ہو گا۔ سائنس تو مذہب کی مؤید ہونی چاہئے نہ کہ خلاف۔ کیونکہ فعل ہمیشہ قول کا مؤید ہوا کرتا ہے نہ کہ مخالف پس سائنس کی کوئی تحقیق مذہب کے خلاف نہیں ہو گی۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔ خدا کے کلام کی آپ کے عمل سے تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صحابہ نے دریافت کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے۔ تو انہوں نے جواب دیا۔ كَانَ خُلُقَهُ القُرآن نے آپ کے اخلاق وہی تھے جو قرآن نے بیان کئے ہیں۔ پس سچائی میں قول اور فعل ٹکراتے نہیں۔ اگر مذہب خدا کی طرف سے ہے تو سائنس ضرور اُس کی مؤید ہو گی۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کے کلام پر غور کرنے سے سائنس کی تائید ہوگی نہ کہ مخالفت۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِ اللهِ ہے یعنی خدا کے کلام میں جھوٹ نہیں ہو سکتا اس میں جتنا غور کرو گے سچائی ہی سچائی نکلے گی۔ پھر فرماتا ہے۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلاً - سے یعنی خدا کے عمل میں بھی غلطی نہیں ہے۔ گویا خدا کے کلام (مذہب) اور اس کے فعل (سائنس) پر جتنا بھی غور کرو گے کبھی اس کی بات کو اس کے عمل کے خلاف نہ پاؤ گے ۔ قرآن اور سائنس پس قرآن تو سائنس کی طرف بار بار توجہ دلاتا ہے۔ چہ جائیکہ اس سے نفرت دلائے۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ سائنس نہ پڑھنا، کافر ہو جاؤ گے کیونکہ اسے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ لوگ علم سیکھ جائیں گے تو میرا جادو ٹوٹ جائے گا۔ قرآن نے لوگوں کو سائنس کی تعلیم سے روکا نہیں بلکہ فرماتا ہے۔ قُلِ انْظُرُ وا مَاذَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ - کے غور کرو۔ زمین اور آسمان کی پیدائش میں۔ آسمان سے مراد سماوی (علوی) علوم اور زمین سے ارضی یعنی جی آلوجی (GEOLOGY)، ہائی آلوجی (BIOLOGY)، آر کی آلوجی (ARCHEOLOGY) طبیعیات وغیرہ علوم مراد ہیں۔ اگر خدا کے نزدیک ان علوم کے پڑھنے کا نتیجہ مذہب سے نفرت ہوتا تو قرآن کہتا ان علوم کو کبھی نہ پڑھنا۔ مگر اس کے برخلاف وہ تو کہتا ہے، ضرور غور کرو، ان علوم کو پڑھو اور اچھی طرح چھان بین کرو کیونکہ اسے معلوم ہے علوم میں جتنی ترقی ہو گی اس کی تصدیق ہو گی۔