انوارالعلوم (جلد 9) — Page 497
انوار العلوم جلد 9 ۲۹۷ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ذہب اور سانی مذہب اور سائنس حضرت فضل عمر خلیفہ المسیح الثانی نے ۳۔ مارچ ۱۹۲۷ء کو زیر صدارت جناب ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب، اسلامیہ کالج کی سائنس یونین کی درخواست پر حبیبیہ ہال لاہور میں مذہب اور سائنس پر لیکچر دیا۔ ) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جیسا کہ اشتہار میں شائع کیا گیا ہے اس مجلس میں میں مذہب اور سائنس کے متعلق کچھ بیان کروں گا۔ بادی النظر میں اس مضمون پر بحث ۔ اپر بحث کے لئے ایک ایسے آدمی کا کھڑا ہونا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے جو ان دونوں علوم کے متعلق کامل واقفیت رکھتا ہو۔ میں عمر کے بیشتر حصہ کو اور اوقات میں سے اکثر وقت کو مذہب کی تحقیق میں صرف کرتا ہوں اور میرے لئے سائنس کے متعلق بار یک مطالعہ کے لئے ایسی فرصت کا ملنا ناممکن ہے جو کسی فن کا ماہر ہونے کے لئے ضروری ہے۔ مگر اس امر کے باوجود جو بحث کرنی ہے وہ چونکہ اصول کے متعلق ہے اس لئے میں نے اس مضمون پر دینا منظور کر لیا ہے۔ مذہب اور سائنس کا مقابلہ بہت پرانا چلا آتا ہے۔ ترقی ہب اور سائنس کا تصادم انسانی کے مختلف دوروں پر نظر ڈالئے دوروں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقابلہ ہمیشہ سے چلا آیا ہے۔ سائنس کے ماہروں کو جادو گر کہا گیا، ان پر سختی کی گئی، بعضوں کو جلایا گیا اور طرح طرح کے ظلم اُن پر مذہب کے حامیوں کی طرف سے کئے گئے۔ اسی طرح مذاہب کے بانیوں کو سائنس دان اور فلسفی مجنون کہتے چلے آئے۔ ان کو ہمیشہ مرگی، ہسٹیریا اور مالیخولیا کے مریض تصور کرتے رہے۔ چنانچہ سائنس کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں پر مذہبی لوگوں کے مظالم بخوبی روشن ہیں اور مذہب کی تاریخ کو جاننے والوں کو فلسفیوں کے یہ ناموزوں القاب