انوارالعلوم (جلد 9) — Page 489
انوار العلوم جلد و ۴۸۹ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل ہمارے لئے ضروری ہے نہیں نہیں بلکہ فرض ہے کہ ہم ان کے حملوں کو بھی روکیں اور تبلیغ بھی کریں۔ نفس کی اصلاح مگر تبلیغ بھی یونہی نہیں ہو سکتی اس کے لئے سب سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں فیصلہ کر لینا چاہئے کہ اسلام کا فائدہ ہمارے احساسات پر مقدم ہونا چاہئے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اسی وجہ سے مسلمان تبلیغ نہیں کر سکتے اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ ملکانوں کے علاقوں میں ایک جگہ سات آٹھ سو کے قریب آدمیوں کو آریہ مرتد کرنے لگے مجھے خبر ملی تو میں نے اپنے مبلغین کو وہاں بھیجا وہ لوگ ہمارے قبضہ میں آگئے تھے مگر دوسری جماعتوں کے مبلغوں نے وہاں پہنچ کر احمدیت اور غیر احمدیت کا سوال چھیڑ دیا اور بجائے اس کے کہ ان لوگوں کو جو آریہ ہو رہے تھے بچاتے انہیں ہمارے متعلق یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ قادیانی کافر ہیں ان کی باتیں نہ سنو۔ اس کے بعد اگر وہ خود ان کو اپنی باتیں سناتے اور مرید نہ ہونے دیتے تو ایک بات بھی تھی مگر یہ بھی نہ کیا نہ ہمیں کام کرنے دیا نہ آپ کام کیا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہزاروں آدمی جو ہمارے قبضہ میں آسکتے تھے ہمارے ہاتھ سے نکل کر آریوں کے ہاتھوں میں جا پڑے۔ وہ واقعہ میں ہزاروں تھے کیونکہ ان کے ساتھ ان کے بیوی اور بال بچے بھی تھے اور پھر ارد گرد کے قصبوں کے بعض باشندے بھی۔ مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان مولویوں نے وہاں بھی مخالفت کی جس کے یہی معنی ہیں کہ انہوں نے اسلام کی مخالفت کی اور اس کی اشاعت میں روک کھڑی کر دی اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ سے یہ بھی کہہ دوں کہ اپنے نفوس کی اصلاح کرو تا آئندہ کے لئے اس طرح نقصان اٹھانے کا خطرہ نہ رہے۔ مسلمان دین سے واقفیت پیدا کریں تبلیغ کے واسطے بھی اور عام ضروریات کے واسطے بھی یہ بہت ضروری ہے کہ مسلمان خود اپنے دین سے واقف ہوں کیونکہ میں نے دیکھا ہے ذرا سا اعتراض پڑتا ہے تو مسلمان گھبرا جاتے ہیں۔ اگر اپنے دین سے پوری واقفیت ہو تو کبھی کسی اعتراض سے نہ گھبرائیں پھر اگر خود ہی واقف نہیں تو دوسروں کو دین وہ کیا بتا سکتے ہیں۔ پھر دین سے واقف نہ ہونے کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ مسلمان اعمال کی طرف سے بے توجہ ہیں۔ پس مسلمانوں کو چاہئے کہ خود بھی دین سے واقف ہوں اور اپنے اپنے متعلقین کو بھی اس سے واقف بنائیں خصوصیت سے ایسے مسائل پر کتابیں لکھی جائیں جو بچوں کے لئے مفید ہو سکیں تا بچپن میں ہی ان کے ذہن میں وہ باتیں مضبوطی کے ساتھ