انوارالعلوم (جلد 9) — Page 485
انوار العلوم جلد 9 ۴۸۵ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل مسلم لیگ کے جلسہ پر جو لاہور ہوا تھا بتا دیا تھا کہ کسی سے یہ کہنا کہ اپنے مذہب کے لحاظ سے جو تم خیال رکھتے ہو اسے چھوڑ دو اور پھر ہماری طرف صلح کے لئے آؤ یہ سراسر غلط طریق ہے اور مسلمانوں کے فرقوں کے درمیان اس رنگ میں قیامت تک بھی صلح کا ہونا ناممکن ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ سیاسی نقطہ خیال کے مطابق ہر شخص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا مدعی ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ نہیں قرار دیتا اور کسی جدید شریعت کا قائل نہیں ہے اس کو مسلمان قرار دیا جائے ایسے لوگوں کے درمیان اتحاد ہو۔ پھر میں نے آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے موقع پر بھی بتایا تھا اب پھر کہتا ہوں کہ اسلام کی اس زمانہ میں دو زمانہ میں دو تعریفیں ہیں ایک مذہبی اور ایک سیاسی۔ اب ان تعریفوں سے الگ رہ کر کہنا کہ صلح کر لو ایک غلطی ہے جو سخت نقصان پہنچانے والی ہے۔ اسلام کی مذہبی تعریف کے لحاظ سے ایک لحظہ علیحدگی اختیار کر کے اسلام کی سیاسی تعریف کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک عیسائی یا ایک ہندو کے مسلمان سمجھتا ہے؟ کیا وہ دیوبندیوں کو مسلمان سمجھتا ہے اور باقی سب کو غیر مسلم؟ کیا وہ احمدیوں کو مسلمان سمجھتا ہے اور باقی سب کو کافر؟ کیا وہ شیعہ لوگوں کو مسلمان سمجھتا ہے اور باقی سب کو کافر؟ نہیں وہ سب کو مسلمان سمجھتا ہے خواہ کوئی دیو بند کا ہو، خواہ قادیان یا فرنگی محل کا۔ اس کے لئے سب ایک ہیں اور وہ سب کے ساتھ ایک ہی قسم کا سلوک کرے گا کیونکہ ہندو یا عیسائی قوم کو اس سے بحث نہیں کہ اسلام کی مذہبی تعریف کے لحاظ سے کون کون مسلمان ہے اور کون کون کافر بلکہ وہ سلوک کرتے وقت یہ دیکھیں گے کہ کون لوگ مسلمان کہلاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ ان کو تو اسلام کے فلاں فرقہ نے کافر قرار دیا ہوا ہے یا فلاں فرقہ کو فلاں فرقہ نے اپنے سے علیحدہ کر دیا ہے وہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکیں گے اس لئے ضروری ہے کہ سیاسی تعریف کے رو سے مسلمانوں کے تمام فرقے اکٹھے ہو جائیں۔ مذہبی تعریف کے لحاظ سے ہم جس کے متعلق چاہیں کہیں لیکن سیاسی امور کے لحاظ سے ہمیں ایک جگہ متحد ہو جانا چاہئے کیونکہ دوسری قومیں مسلمانوں کے تمام فرقوں کو مسلمان سمجھتی ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں۔ بریلوی دیوبندیوں کو اسی طرح شیعہ سنیوں اور سنی شیعوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی کو کافر کہیں یا نہ کہیں مگر عقید تا ایسا سمجھتے ہیں اور یہ اعتقاد اتحاد میں مانع نہیں ہو سکتا اور اگر اس کے بغیر اتحاد نہیں ہو سکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب چھڑایا جائے اور مذہب چھوڑ کر قیامت تک بھی صلح نہیں ہو سکتی۔