انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 480

انوار العلوم جلد 9 ۴۸۰ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل انہ دو۔ اس نے ہمیں کان دیئے ہم گونگے تھے اس نے ہمیں زبانیں دیں ہم اندھے تھے اس نے ہمیں آنکھیں دیں۔ ہم راہ ۔ م راہ سے بھولے ہوئے تھے اس نے ہمیں راہ دکھائی خدارا اسے گالیاں نہ د غور کرو اس نے شرد ہانند جی کو مارا نہیں اور نہ مروایا ہے اس کا اس معاملے میں کوئی دخل نہیں۔ پھر اسے کیوں گالیاں دیتے ہو۔ جس نے مارا ہے اسے پکڑلو۔ ایک کو نہیں بہتوں کو پکڑ لو جیسا کہ تم نے پکڑا بھی اور ایک کو مار بھی ڈالا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو۔ وقت کے لحاظ سے مسلمانوں کا فرض اب میں مسلمانوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انہیں سوچنا چاہیے شدھی اور سنگھٹن کے ذریعے ہندو کیا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یقیناً اس ذریعہ سے انہیں مٹانا چاہتے ہیں۔ اور جب دوسری قومیں انہیں مٹانا چاہتی ہیں تو مسلمانوں کو ہوشیار ہو جانا چاہئے۔ شدھی اور سنگھٹن سے مسلمانوں پر ایک اثر پڑ رہا ہے اور یہ اثر جہاں تک میں دیکھتا ہوں مفر ہے۔ پس اگر مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کا احترام ہے تو انہیں بیدار ہو جانا چاہئے لیکن میں ساتھ ہی کہوں گا کہ شدھی اور سنگھٹن سے مسلمانوں کو جوش میں بھی نہیں آنا چاہئے بلکہ انہیں اپنا فرض پہچاننا چاہئے۔ انہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ اگر ملکا نا شدھ ہو رہے ہیں تو ہمیں کیا۔ کیونکہ آج اگر ملکانا شدھ ہو جائیں تو کل دوسروں کی باری بھی آجائے گی۔ پس اس سے بے پروا نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ملکانوں کو شدھ ہونے سے نہ بچایا گیا تو کل دوسرے بھی ہو جائیں گے۔ اگر ایک دیوار کے نیچے سے ایک اینٹ نکال لیں تو پھر دوسری آسانی کے ساتھ نکل سکتی ہے تیسری آپ ہی نکل آتی ہے پھر چو تھی پانچویں غرضیکہ ایک وقت آتا ہے کہ دیوار کی دیوار ہی گر پڑتی ہے۔ پس ملکانوں کی حفاظت ہمارا فرض ہے اور ہمیں اس فرض کے پورا کرنے میں غفلت نہیں کرنی چاہئے۔ سرحد پر گھوڑے تھوڑے باندھو باندھو اگر اسلام کی تڑپ ہے، اگر چاہتے ہو اسلام ترقی کرے، اگر چاہتے ہو مسلمان مسلمان رہیں اور دوسری قوموں میں جذب ہونے سے بچے رہیں تو خود مسلمانوں کو چاہئے مسلمان بن کر رہیں۔ اسلام کا کوئی حکم نہ ہو جسے وہ کر سکتے ہوں اور نہ کریں۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں آج اگر کل کی فکر کرو گے تو کل کا فکر کم ہو جائے گا آج جو تمہارے ساتھ ہو رہا ہے اس کی فکر کرو اور اس کے علاج کی طرف توجہ کرو تا آج کا بھی علاج ہو اور کل کا بھی۔ آج ملکانے شدھ کئے جا رہے ہیں۔ ان کو بچاؤ گے نہیں تو کل دوسرے لوگ شدھ ہونگے۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا