انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 478

انوار العلوم جلد 9 ۴۷۸ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں کھڑا کر گیا اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ ظالم اور مفسد تھا اور یہ فعل اس کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔ ہم کون ہیں ؟ یاد رکھو ہم وہ لوگ ہیں جن کے ایک ایک آدمی کو مخالفین پکڑ کرلے گئے اس کو سخت ایذائیں پہنچائیں تکلیفیں دیں یہاں تک کہ اس کے جسم میں سوئیاں چھوئی گئیں اس کے سامنے ایک سولی لٹکائی گئی اور اسے بتایا گیا یہ تمہارے لئے ہے ان تکلیفوں کے درمیان اس سے پوچھا گیا کیا تم چاہتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے سبب تمہیں یہ تکلیفیں پہنچ رہی ہیں یہاں ہوتا اور ان تکلیفوں میں مبتلاء ہوتا اور تم گھر میں آرام کرتے؟ یہ بات سن کر وہ نہایت اطمینان اور سکون سے مسکراتا ہوا کہتا ہے تم تو کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ہوں اور یہ کہ کیا میں پسند کر سکتا ہوں کہ تکالیف ان کو پہنچ رہی ہوں اور میں اپنے گھر آرام سے بیٹھا ہوا ہوں لیکن مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں کانٹا چھے اور میں گھر میں آرام سے بیٹھا رہوں۔ لا غرض ہمارے جسم کا ہر ذرہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہونے کا متمنی ہے ہماری جان بھی اسی کے لئے ہے ہمارا مال بھی اسی کے واسطے ہم اس پر راضی ہیں بخدا راضی ہیں۔ پھر کہتا ہوں بخدا راضی ہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے بچے قتل کر دو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہمارے اہل و عیال کو جان سے مار دو لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو۔ ہمارے مال لوٹ لو ہمیں اس ملک سے نکال دو لیکن ہمارے سردار حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور توہین نہ کرو۔ انہیں گالیاں نہ دو۔ اگر یہ سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے : سے تم جیت سکتے ہو او لتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ گالیاں دینے ۔ ادینے سے تم رک نہیں سکتے تو پھر یہ بھی یاد رکھو کہ کم سے کم ہم تمہارا اپنے آخری سانس تک مقابلہ کریں گے اور جب تک ہمارا ایک آدمی بھی زندہ ہے وہ اس جنگ کو ختم نہیں کرے گا۔ حضرت نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام مت دھرو میں نے قادیان سے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ شرد ہانند جی کے قتل کا فعل بہت بڑا فعل ہے اور جس نے کیا اس نے کوئی اچھا کام نہیں کیا لیکن یہ ایک شخص کا انفرادی فعل ہے اسلام کو اس سے کوئی تعلق نہیں اور اسلام کو اس سے ملزم نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ مگر میں یہاں تک دیکھتا ہوں کہ آریوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور