انوارالعلوم (جلد 9) — Page 473
۴۷۳ اسلام کی اصل روح غرض اس قسم کی بہت سی مثالیں قرآن شریف سے پیش کیا جا سکتی ہیں۔جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیم جبر کے خلاف ہے مثلاً قرآن کریم فرماتا ہے وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًاؕ-اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَگر خدا تعالی چاہتا تو تمام دنیا کی آبادی ایمان لے آتی پھر کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو لوگوں کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔اگر دنیا کو جبر کے ساتھ منوا نا ہوتا اور اگر اسلام میں جبر کی تعلیم ہوتی تو خدا تعالی یہ نہ فرماتا کہ تو لوگوں کو مسلمان ہونے کے لئے مجبور نہیں کر سکتا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو یہ بات ہماری طاقت میں تھی کہ ہم اپنی مشیت سے کام لے کر تمام لوگوں کو مسلمان بنادیتے۔مگر جب ہم نے یہ نہیں کیا تو اے محمد !صلی اللہ علیہ وسلم تُو کیسے ان کو مسلمان بننے کے واسطے مجبور کر سکتا ہے اور تُو جب ان کو مجبور نہیں کر سکتا تو پھر تیرے لئے یہی ایک راہ ہے کہ ان سے کہدے قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ- فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ۸؎ کہہ حق اور صداقت جو دنیامیں آئی ہے تو وہ تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور یہ تعلیم جو تمہارے لئے بھیجی گئی ہے بالکل بھی ہے اور تمہارے واسطے فلاح کا موجب ہے اب تمہارادل چا ہے تومان لو اور دل نہ چاہے تو نہ مانو۔کیسی صاف بات ہے کہ حق پیش کر کے کہا جاتا ہے مرضی ہو تو مانونہ مرضی ہو تو نہ مانو۔غور کرو اگر جبر اسلام میں ہوتا تو کیا خیال کر سکتے ہو کہ خدا تعالی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سکھاتا ہے کہ دنیا سے تم یہ کہو الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ- فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُر- یقیناً وہ ایسا نہ کہتا بلکہ وہ ایسے الفاظ فرماتا جن کا یہ مطلب ہوتا کہ اگر نہیں مانو گے تو ملک سے نکال دیا جائے گا یا تمهاری جائیدادیں ضبط کر لی جائیں گی یا تمہیں قتل کر دیا جائے گا لیکن نہ خدا نے یہ فرمایا نہ قرآن کریم میں ایسا حکم ہے نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ارشاد فرماتے ہیں بلکہ خداء قرآن اور گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے ہیں کہ مرضی ہو تو مالو نہ مرضی ہو تو نہ مانو تم پر جبر نہیں۔سمجھ نہیں آتی پھراسلام پر جبر کا الزام لگانے والے کہتے کس بناء پر ہیں کہ اسلام میں جبر ہے۔اسلام کی ہر بات میں امن ہے ایک اور رنگ سے بھی یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچتی ہے کہ اسلام کے متعلق جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس میں جبر ہے بالصراحت غلط ہے۔خدا تعالی کا اس کا نام اسلام رکھناہی یہ بات ظاہر کرتا ہے