انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 471

انوار العلوم جلد 9 گئی ہے کہ انہوں نے جبر کیا۔ ۲۷۱ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل ہندوؤں میں سے جس قوم نے زیادہ اسلام قبول کیا وہ راجپوت ہیں راجپوتوں کا اسلام جن کے متعلق ہندو کہتے ہیں ان کو جبراً مسلمان بنایا گیا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہندوؤں میں سے راجپوتوں نے زیادہ اسلام قبول کیا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی بہادر اور لڑنے والی قوم بھی راجپوت ہی تھی اس وجہ سے یہ سن کر تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ اس بہادر اور دلیر قوم کو زبردستی اسلام میں داخل کر لیا گیا اور یہ کہ اس قوم نے مسلمانوں کے جبر کے ڈر سے اسلام قبول کیا۔ اگر یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں نے جبر کیا اور مسلمانوں کے ڈر سے راجپوتوں نے اسلام قبول کیا تو چاہئے تھا کہ آج برہمن وغیرہ قو میں نظر نہ آتین۔ کیونکہ ڈر کی وجہ سے اگر اسلام قبول کیا گیا تھا تو سب سے پہلے برہمن اسلام قبول کرتے کیونکہ یہ راجپوتوں کی طرح بہادر اور دلیر نہ تھے لیکن ہوتا اس کے بالکل الٹ ہے کہ برہمن تو برہمن ہی نظر آتے ہیں اور راجپوت مسلمان پائے جاتے ہیں۔ راجپوتوں کے ہاتھ میں ہمیشہ تلوار رہی ہے۔ وہ اسلام کے جبر کا مقابلہ کر سکتے تھے اور جن کے ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہتھیار نہ تھے وہ فوراً اسلام قبول کر لیتے۔ مگر جو ڈرنے والے تھے وہ تو کثرت سے اپنے مذہب پر نظر آتے ہیں اور جو بہادر اور دلیر تھے وہ کم نظر آتے ہیں۔ اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی پر جبر نہیں کیا اور نہ اسلام کی طرف سے ایسی تعلیم دی گئی ہے کہ جبر کر کے لوگوں کو مسلمان بنایا جائے۔ اسلام کو جبر کی ضرورت نہیں ان سب باتوں کے علاوہ اب میں آپ لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام کو جبر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے قرآن شریف میں ہے لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشُدُ مِنَ الْغَيِّ ل یعنی دین میں کوئی جبر نہیں۔ کیونکہ واقعی جو حق بات تھی وہ گمراہی اور ضلالت کے بالمقابل پورے طور پر ظاہر ہو گئی۔ اور خدا تعالیٰ اس آیت میں وجہ بیان فرماتا ہے کہ کیوں اسلام کو جبر کی ضرورت نہیں اسلام کو جبر کی اس لئے ضرورت نہیں کہ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشد سچائی صاف صاف ظاہر ہو گئی اور یہ ظاہر ہے کہ جبر اسی وقت ہوتا ہے جب کوئی بات دلیل سے ثابت نہ ہو سکے یا جس کو سمجھایا جائے وہ سمجھنے کے قابل نہ ہو۔ جیسے بچے کہ ان کی عقل چونکہ کمزور ہوتی ہے انہیں بسا اوقات ان کی مرضی کے خلاف اور جبر کرنے والے کی مرضی کے موافق کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے لیکن اسی بچہ میں جب عقل آجاتی ہے تو پھر وہ اپنے آپ ہی سمجھ لیتا ہے اور اپنے نفع و نقصان کو سوچ سکتا ہے اس حالت