انوارالعلوم (جلد 9) — Page 469
انوار العلوم جلد 9 ۴۶۹ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل باوجود اس کے جبر ہوا۔ جن باتوں کو جبر کے ثبوت میں ہندو بیان کرتے ہیں تمام تاریخوں کا مطالعہ کرنے سے بھی ان کی صداقت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اتنا بڑا واقعہ ہو اور تاریخیں اس کے بیان کرنے سے خاموش رہیں نا ممکن ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کسی ملک میں ایک طرف اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے تو بہت جلد دوسرے سرے تک پہنچ جاتا ہے لیکن یہاں تاریخیں ایسے واقعات کا حقیقی ثبوت دینے سے خاموش ہیں۔ در حقیقت اسلام میں جبر کی تعلیم ہی نہیں اس لئے یہ ہو نہیں سکتا کہ مسلمان کسی پر جبر کریں۔ اگر کسی جگہ شخصی جوش کے ماتحت کسی فرد نے کوئی ایسا کام کر دیا تو قوم اس کی وجہ سے ملزم نہیں ٹھہرائی جاسکتی۔ معلوم ہوتا ہے بعض ایسے واقعات کو لے کر بعض لوگوں نے اپنی قوم کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے کہنا شروع کر دیا کہ جبر ہوا ہے۔ حالانکہ یہ صریح بات ہے کہ انفرادی فعل قومی فعل نہیں بنا کرتا اور انفرادی فعل سے قوم ملزم نہیں ہوا کرتی کیونکہ جب قوم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا تو پھر اگر اس کا کوئی فرد کوئی بڑا کام کرے تو اس سے قوم زیر الزام نہیں آسکتی۔ اسی طرح ان مشخصی باتوں سے جن کو لے کر بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اسلام نے جبر سے کام لیا اسلام پر الزام نہیں آسکتا نہ اس قسم کے انفرادی افعال سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ مذہب پھیلا ہی تلوار کے ذریعہ ہے۔ ہندو شکایت کرتے ہیں کہ اسلام نے جبر کیا اسلام نے ہر جگہ لوگوں کو امن دیا اور بدامنی کا باعث ہوا۔ مگر جس قدر اسلام نے امن پھیلایا اس کی نظیر خود ہندوؤں کے مذہب میں بھی نہیں ملتی۔ خود ہندوستان میں اسلام امن کا ذریعہ ہوا۔ پھر اسلام کی ابتداء ابتداء عرب سے ہوئی۔ عرب میں جو بدامنی اسلام سے قبل تھی اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ وہ بدامنی کس نے دور کی؟ جس مذہب نے وہ بدامنی جس کی نظیر ملنی بھی مشکل ہے دور کی وہ مذہب اسلام تھا۔ اسی پر امن تعلیم کا نتیجہ تھا کہ آج تک عرب میں غیر مسلم موجود ہیں۔ یہی حال شام کے علاقہ کا ہے۔ اس میں بھی اسلامی حکومت کے وقت سے پہلے عیسائی وغیرہ موجود تھے اور اس وقت تک بھی موجود ہیں۔ مصر فتح ہوا اس میں آج بھی عیسائی دکھائے جاسکتے ہیں۔ تیرہ سو سال ہوئے وہاں حکومت قائم ہوئی اور تیرہ سو سال ہی ان کے اسلام کی ماتحتی میں گزرے۔ ان کی رسمیں بھی وہی ہیں جو پہلے تھیں، ان کے رواج بھی وہی ہیں جو ان میں جاری تھے ، ان کی عبادت گاہیں اس وقت سے لے کر اس وقت تک بدستور قائم ہیں، ان کی جائدادیں بھی ہیں، اسی طرح ہندوستان کا حال ہے۔ مسلمانوں کے آنے سے پہلے جو ہندوؤں کی