انوارالعلوم (جلد 9) — Page 465
۴۶۵ اور انہیں مذہب تبدیل کرنے کے واسطے بھی مجبور کیا گیا۔گو ا میں جبر ہندوستان کے ایک گوشے گوا میں بھی جبر ہوا۔عیسائیوں نے وہاں کے باشندوں پر جبر کیا جس سے مجبور ہو کر وہاں کے تمام باشندے اب عیسائی ہیں۔غرض یہ اور اس قسم کے اور کئی جبر ہیں جو مختلف مقامات پر ہوۓ ان سب کے لئے تاریخی شواہد موجود ہیں اور ان کے متعلق کوئی شخص انکار نہیں کرتا اور خود جبر کرنے والوں کو اس بات کا اقرار ہے کہ انہوں نے جبر کیا۔جبر سے مذہب تبدیل ہو جاتا ہے ہم جب ان تاریخوں پر غور کرتے ہیں جن میں تفصیلات جبر کی درج ملکوں ہیں جو ان ملکوں میں ہوا۔اور جب ہم ان کیفیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ اسلام نے ہرگز جبر نہیں کیا کیونکہ سوائے بعض شخصی مثالوں کے جن کے حالات بھی پوری طرح محفوظ نہیں ہیں اسلام میں قومی جبر کی کوئی شکی مثال بھی نہیں ملتی۔پس ان حالات میں اسلام پر یہ الزام لگانا کہ یہ جبر کرتا رہا ہے بالکل ظلم ہے۔دوسری قوموں کے جبر اور اس قسم کے شخصی واقعات کو آپس میں کوئی مناسبت نہیں کیونکہ جبر کے عام نتائج میں سے پہلا اور بڑا نتیجہ جو ہوتا ہے وہ مذہب کی تبدیلی ہے۔چنانچہ دوسری قوموں کے جبر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن پر جبر ہؤ ا وہ اپنے مذہب کو چھوڑ کر جبر کرنے والوں کے مذہب میں داخل ہو گئے۔چنانچہ مثال کے طور پر میں گوا کے جبر کو پیش کرتا ہوں یہ جبر اٹھارویں صدی میں ہوا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب وہاں سارے عیسائی ہیں۔سب جانتے ہیں اور خصوصا ًجہازوں کا سفر کرنے والے جانتے ہیں کیونکہ جہازوں پر گوا کے ہی عیسائی ملازم ہوتے ہیں کہ گوا کے تمام لوگ جبری طور پر عیسائی کر لئے گئے ہیں۔ہندوستان میں جبر پس جبر کا ایک نتیجہ تو تبدیلی مذہب ہوا کرتا ہے اور چونکہ اسلام پر بھی جبرکا الزام لگایا جاتا ہے اس لئے ہم دیکھتے ہیں کیا اسلام کے اس جبر کے نتیجہ میں یہاں وہی بات پیدا ہو گئی جو عیسائیوں کے گوا میں جبر کے نتیجہ میں پیدا ہوئی اور کیا فی الواقع اس ملک میں سوائے مسلمانوں کے اور کوئی نظر نہیں آتا۔جب ہم اس طرف دیکھتے ہیں تو پہلی بات تویہی ہمارے سامنے آتی ہے کہ اگر واقعہ میں ہندوستان میں مسلمانوں کی طرف سے جبر ہوتا تو جس طرح گوا میں عیسائیوں کے جبر کے سبب عیسائیوں کے سوا اور کوئی نظر نہیں آتا اسی طرح یہاں بھی اس جبر کے باعث مسلمان ہی مسلمان نظر آتے اور ہند و نظر نہ آتے لیکن یہ بات نہیں۔ہر شخص