انوارالعلوم (جلد 9) — Page 460
۴۶۰ ہندوستانی اور پھر مسلمان یا ہندو ہوں کوئی حقیقت ہی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی شخص اپنے مذہب کو سچاتسلیم کرتا ہے تو اس کے نزدیک ہر ایک خوبی جو روحانی یا اخلاقی ہو اس کے مذہب میں پائی جانی چاہئے اور جس کے نزدیک ہرایک مذہبی اور اخلاقی خوبی اس کے مذہب میں پائی جاتی ہے وہ اور چیز کو اپنے مذہب پر مقدم کس طرح کر سکتا ہے بلکہ وہ اس امر کا خیال بھی کسی طرح کر سکتا ہے کہ کوئی اچھی چیز اس کے مذہب سے ٹکراسکتی ہے۔پس جب ہم اسلام کو سچامذہب سمجھتے ہیں تو یہ کہ بھی نہیں سکتے کہ ہم پہلے ہندوستانی ہیں اور پھر مسلمان۔کیونکہ اگر ہندوستانیت کوئی اچھی چیز ہے تو سچے مذہب کو اس کے مخالف ہوناہی نہیں چاہئے اور اگر بُری ہے تو پھر ہم نے پہلے ہندوستانی ہیں نہ بعد میں۔غرض دونوں صورتوں میں ہندوستانیت اور اسلام کا مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا اور ہم پہلے اور پیچھے کہہ کر ان کے مدارج قرار دیں۔اگر مذہب خدا تعالی کی طرف سے ہے تو وہ بہر حال مقدم ہے اور اگر ہندوستانیت کوئی اچھی چیز ہے تو وہ ضرور مذہب کا جزو ہونی چاہئے اور جزو کل پر مقدم نہیں ہو سکتا۔بات یہ ہے کہ اگر ہم ملک کومذہب پر مقدم رکھیں گے تو ملک کا بھی کچھ نہیں بنا سکیں گے اور اگر مذہب کو ملک پر مقدم رکھیں گے تو ملک کے لئے بھی مفید ہوں گے اور دین بھی درست ہو گا اور میں یہ کہتا ہوں کہ میں پہلے بھی مسلمان ہوں پھر بھی مسلمان۔کیونکہ اگر میں مسلمان ہوں تو میں ہندوستانی بھی ہوں یعنی وطن کا بھی خیر خواہ ہوں اگر ذرا بھی اس پر غور کیا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ ایمان اور مذہب سے ہی حب الوطنی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ مروی ہے کہ حب الوطن من الإيمان ۴؎ لیکن اگر مذہب چھوڑ کر حب الوطنی اختیار کی جائے یا حب الوطنی کو مذہب پر مقدم کر لیا جائے تو نہ مذہب رہتا ہے اور نہ حب الوطنی۔کیونکہ حب الوطنی سے مذہب نہیں پیدا ہوا کرتا بلکہ مذہب سے حب الوطنی پیدا ہوا کرتی ہے۔پس جب میرا مذہب مجھے سکھاتا ہے کہ مذہب کو حب الوطنی پر مقدم رکھنا چاہے تو میں یہ کہتا ہوں کہ میں پہلے بھی مسلمان پر مسلمان اور میرے مسلمان ہونے میں ہی ہندوستانیت شامل ہے گویا میں پہلے مسلمان ہوں اور پھر ہندوستانی نہ کہ پہلے ہندوستانی اور پھر مسلمان۔پس میں نے یہ جو کہا ہے کہ ہندو مسلم سوال اُٹھ جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے ملک اور پھر مذہب کو رکھا جائے بلکہ یہ مطلب ہے کہ قومی بُغض اور تنافرمٹ جائے۔ہاں مسلمانوں کی نازک حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوؤں کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ خیال رکھیں کہ چونکہ مسلمان ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں انہیں ساتھ ساتھ لے کر چلیں اسی طرح مسلمانوں کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ہندو بھی ہم میں سے ہیں اور اسی ملک کے رہنے والے ہیں ہمیں